تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 228
کی حمایت کی۔پنڈت جواہر لعل نہرو اور اس کی نام نہاد حکومت کہاں ہے جو کہتی تھی کہ زبر دستی کسی کو نہیں نکالا جائے گا۔کیا اس نے قادیان کی طرف سے آنکھیں بند کر لی ہیں؟ پھر سیکھ محلہ دار السعہ کی طرف بڑھے اور اسے ٹوٹنا شروع کر دیا۔اہلِ قادیان نے فوراً ملٹری کو توجہ دلائی کہ تم ہماری حفاظت کے لئے آئے ہو۔دیکھو یہ کیا ہو رہا ہے مگر ملٹری کے سپاہی اس وقت والی بال کھیل رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ پہلے بھاؤ ہم کچھ نہیں کر سکتے پھر پانچ نہتے لڑکے دارالستہ کی طرف بڑھے اور انہوں نے سکھوں کو بھگا دیا۔سکھ ہزاروں کی تعداد میں قادیان کی خالص مسلم آبادی کی گلیوں میں تلواریں پر چھپیاں اور دیسی ساخت کی بندو تیں لے کر پھرتے اور جب ملڑی اور پولیس سے کہا جاتا۔ان لوگوں کا یہاں کیا کام ہے تو جواب ملتا ہے ہم شریف آدمیوں کو چلنے پھرنے سے کیونکر روک سکتے ہیں اور ادھر اگر کسی مسلمان کے پاس کوئی سونٹایا چا تو یا غلیل ہوتی ہے تو وہ بھی چھین لی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ تم ہر اس پھیلاتے ہو۔گویا اس وقت ہر سکھ غنڈہ اور لٹیرا ایک شریف آدمی ہے اور ہر مسلمان شریف آدمی غنڈہ ہے۔سکھ مسلم پناہ گیروں گا اور مویشی زبر دستی اُٹھا لیتے ہیں اور مسلمانوں کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔مڑی کے ہندو کیپٹن نے سکھ تھانیدار کے ساتھ مل کہ یہ سازش کی کہ کسی طرح مسلم پناہ گیروں کو قادیان سے باہر لے بھا کہ بلاک کیا جائے۔چنانچہ انہوں نے سکیم بنائی کہ ان کو قافلہ کی صورت میں بٹالہ کی طرف ہانکا جائے اور راستہ میں تہ تیغ کیا جائے کیپٹن نے اعلان کروایا کہ قادیان سے قافلہ جائے گا اور تمام پناہ گیروں کو قادیان سے نکال دیا بھائے گا۔جو رہ جائے گا ہم اس کی حفاظت کے ضامن نہیں۔ادھر سکھ تھانیدار جیپ کار پر سوار ہو کر تمام سکھ دیہات میں گھوم آیا اور سکھوں کو مطلع کر دیا کہ قافلہ آنے والا ہے تیار ہو جاؤ کوئی بچ کر نہ بھانے پائے۔اہلِ قادیان نے اس قافلہ کی مخالفت کی اور کہا کہ ہم ہند و ملٹری کی حفاظت میں قافلہ روانہ نہیں ہونے دیں گے۔۲۰ ستمبر کو ہندو کیپٹن نے ڈھنڈورا پٹوایا کہ کل قافلہ بجائے گا اور جو شخص اس کے ساتھ نہ جائے گا اُسے گرفتار کر کے