تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 217
۲۱۵ اور جو لوگ یہاں رہنے لگے تھے انہیں پھر اور ڈنگ آنا پڑا۔۱۳۔کھانے پینے کی مشہکلات بورڈنگ کا تعلق اسی دن سے شہر میں رہنے والے احمدیوں سے منقطع کر دیا گیا جس دن کہ لوگوں کو گھروں سے نکال کر بورڈنگ میں ٹھونس دیا گیا تھا۔نہ کوئی شہر میں جا سکتا تھا اور نہ آسکتا تھا۔کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنے سے بالکل روک دیا گیا لیکن با وجود اس کے ہمار من تظمین نے ہزاروں مردوں عورتوں اور بچوں کی جانیں بچانے کے لئے ہے ممکن کوشش کی۔بورڈنگ اور ہوسٹل میں غلہ کا کافی ذخیرہ موجود تھا جو اس آڑے وقت کام آیا۔ابتدا میں کچھ دن گندم اُبال اُبال کر کھانے کے لئے دی جاتی رہی۔بعد میں تھوڑے بہت آٹے کا انتظام ہو گیا اور فی کس ایک ایک روٹی صبح وشام ملنے لگی۔کچھ چاول بھی میسر آگئے۔وہ بھی اُبال کر تھوڑے تھوڑے دیئے جاتے۔اس قسم کی خوراک سے پیچیش کی بیماری عام طور پر پھیل گئی جس کے لئے نہ تو کھانے پینے میں پر ہر ممکن تھا۔نہ علاج میسر تھا۔کیونکہ ہمارے ہسپتال پر قبضہ کر لینے کے علاوہ پرائیویٹ دکانوں کو بھی ملڑکی اور پولیس نے اپنے تعریف میں لے کر کسی دوائی کا حاصل کرنا نا ممکن بنا دیا تھا۔۱۴۔ہوائی جہاز پر گولیوں کی بوچھاڑ بیرونی دنیا سے بالکل منقطع کر دینے کے لئے ڈاک، تار، اور ٹیلیفون وغیرہ کا سلسلہ تو پہلے ہی کاٹ دیا گیا تھا۔لاہور سے ہوائی جہاز کبھی کبھی ظلم و ستم کا نظارہ کرنے کے لئے آیا کتا تھا۔اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کی جاتی تھی آمار جہاز کا آنا بھی بند ہوگیا۔لیکن جب قاریان کو ملٹری اور پولیس نے غنڈے سکھوں کی آڑمیں ویرانہ بنا دیا تو ایک دن ایک زرد رنگ کا ہوائی جہناں آیا بحسب معمول پولیس اور ملٹری نے اس پر بھی گولیاں برسانی شروع کر دیں مگر وہ ان کی کوئی پروا کئے بغیر بہت نیچے اُڑتا ہوا اور ساری قادیان پر کئی چکر لگا کر تباہی و بربادی کو اچھی طرح دیکھ کر چلا گیا۔۱۵- خواتین کی حفاظت کا انتظام بورڈنگ کے قریب قریب کے مکانوں میں چونکہ فوراً ہی سکھوں کو داخل کر دیا۔اُدھر