تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 216 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 216

بھی مجبور کر دیا کہ عفونت اور گندگی کی شدید تکلیف میں پڑے رہیں جو کہ لمحہ بہ لحد بڑھتی جا رہی تھی ان حالات میں مسلسل کئی دن گزارے گئے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ بورڈنگ کے صحن میں پھلنا پھرنا یا اس کے آس پاس آنا تو الگ رہا بدبو اور تعفن کی وجہ سے کمروں کے اندر بیٹھنا تک محال ہو گیا۔اس کے ساتھ ہی غلاظت کی بھر مار کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ بے انتہا کثرت کے ساتھ مکھی پیدا ہو گئی جس نے رہا سہا چھین بھی چھین لیا۔اس دوران میں غلاظت سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی مگر سوائے اس کے کیا بھی کیا جا سکتا تھا کہ محدود سی جگہ میں گڑھے کھود کھود کر غلاظت کو دبانے کی کوشش کی جاتی۔سب سے پہلے یہ کام کرتے ہوئے میں نے ایک نوجوان کو دیکھا جس کا نام عطاء اللہ ہے اور محلہ دار الفضل کا رہنے والا تھا اس نے دوسرے ہی دن کدال ہاتھ میں لے کر یہ کام شروع کر دیا اور روزانہ کرتا رہا۔بعد میں اور بھی نوجوان اس کام میں مصروف ہوتے گئے اور انہوں نے یہ خدمت ادا کرنے میں قابل تعریف اور لائق تحسین سرگرمی دکھائی۔باوجود اس کے بحالت نہایت ہی تکلیف دہ اور پریشان کن تھی۔آخر ایک دن جب یہ معلوم ہوا کہ اعلیٰ فوجی افسر ہوائی جہاز کے ذریعہ حالات ملاحظہ کرنے کے لئے آرہے ہیں تو اتنی اجازت دی گئی کہ کالج کے ہوسٹل اور قریب دو چار مکانوں میں جو لوگ رہنا چاہیں بجھا سکتے ہیں اس پر کچھ لوگ وہاں چلے گئے۔۱۱ - برا تبدیلی مذہب کالج کے ہوسٹل میں ایک دن صبح ہی صبح دو مرد عورتیں اور چند بچے ہانکتے کا پیتے تعلی کے ایک گاؤں ہو گی چیمہ سے پہنچے۔جنہوں نے بتایا کہ گاؤں کے سکھوں نے انہیں زبر دستی سیکھ بنا کہ ایک مکان میں زیر حراست رکھا ہوا تھا۔لیکن گذشتہ رات موقع پا کر وہ کھیتوں میں چھپتے چھپاتے بھاگ آئے۔اس سے یہ معلوم ہوا کہ سکھوں کے دیہات میں جو مسلمان بستے تھے انہیں نہ صرف گھروں سے نہ نکلنے دیاگیا بلکہ جبرا ان کو مذہب تبدیل کرنے پچھورکردیا گیا۔۱۲- کالج اور ہوسٹل پر قبضہ کالج کی عمارت سے سخت بارش کے دوران پناہ گزینوں کو نکال کر ملٹری نے پہلے ہی اس پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں اپنا اڈہ قائم کر رکھا تھا۔اب کالج کے ہوسٹل کو بھی خالی کرا لیا گیا۔