تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 203
ہوئے لیت و لعل کی تو اس کی تواضع مگوں طمانچوں اور بندوق کے بٹ سے کی گئی۔چونکہ پناہ گزین کثیر تعداد میں ایک لمبے عرصہ سے قادیان میں پڑے تھے اور با وجود انتہائی جد و جہد اور پناہ گزینوں کی اتنی بڑی تعداد کے حکام نے قادیان میں کیمپ بنانا منظور نہ کیا تھا۔اس لئے ان لوگوں کی خوراک کا بہت بڑا بو مجھے قادیان کے رہنے والوں پر پیٹا ہوا تھا اور وہ اپنی خریدی ہوئی گندم انہیں کھلا رہے تھے کیونکہ ان لوگوں کو ملٹی اور پولیس نے نہایت بے سرو سامانی کی حالت میں گھروں سے نکال کر بلکہ راستہ میں لوٹ مار کا شکار بنا کر قادیان پہنچایا تھا۔گر پولیس نے ہر ممکن کوشش کی کہ ان کو بھوکا مارے تا کہ وہ یا تو نہیں ختم ہو جائیں یا مجبور ہو کر کسی طرف اٹھ بھاگیں تو وہاں ان کا خاتمہ ہو جائے۔قاتلانہ حملے قادیان کے شمال مغر کی طرف ملانو کے جو دیہات تھے وہاں کے مظلوم زیادہ تر محلہ دارا زحمت میں آئے تھے۔اُن میں سے جن کو سیکھ راستہ میں قتل کرتے اور اُن میں سے جو لاشیں کسی نہ کسی طرح لائی جاسکتیں وہ ہمارے محلہ میں آئیں اور قریب کے قبرستان میں دفن کرنے کا انتظام کیا جاتا۔ایک دن اتفاقا ئیں نے ایسی تین لاشیں دیکھیں اور ایک اور دن جبکہ پناہ گزینوں کا قافلہ ریلوے لائن کے قریب ٹرکوں پر سوار ہونے کے لئے بہت بڑی تعداد میں کھڑا تھا پولیس اور ملٹری اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ عورتوں اور بچوں کو ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر دھکیل رہی تھی مردوں پر لاٹھیاں برسا رہی تھی، قریب ہی ایک پناہ گزین کو سکھوں نے کہ پانوں سے دم زدن میں قتل کر دیا اور اس کے بعد تھوڑی دور جا کر کھڑے ہو گئے مقتول کے وارث آہ و فغاں کرتے ہوئے لاش کے پاس پہنچے اور روتے دھوتے لاش کو چار پائی پر ڈال کر تمام مجمع میں سے گذرے مگر پولیس اور ملٹری ٹس سے مس نہ ہوئی۔البتہ کچھ دیر بعد اتنا اس نے ضرور کیا کہ ہوائیں بند ہیں پھلانی شروع کر دیں۔پھر ایک احمدی کے مکان میں گھس کر چھت پر جا پڑھی اور ہوا میں کارتوس مائع کرنے لگی۔در اصل جب کوئی قافلہ روانہ ہونے والا ہوتا تو ارد گرد کے دیہات کے سکھ بہت بڑی تعداد میں مسلح ہو کر ادھر اُدھر منڈلا نا شروع کر دیتے تاکہ لوٹ مار کے لئے کوئی موقع تلاش کریں