تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 204
۲۰۴ لیکن جب قافلے لڑکوں پر مسلمان ملٹری کی حفاظت میں جانے لگے تو لٹیرے اس تاک میں رہتے کہ سوار ہوتے وقت جو ہجوم ہوتا ہے اسے خوفزدہ کریں تاکہ وہ اپنا تھوڑا بہت اسباب بھی چھوڑ کر بھاگ جانے پر مجبور ہو جائے۔اس کے لئے پولیس اور ملٹری کی موجودگی میں قتل تک نوبت پہنچا دی مگر کسی نے ان کو نہ روکا۔البتہ ملٹری اور پولیس نے گولیاں چلا کر مظلومین پر اپنی موجودگی اور شدید سے شدید اقدام کے لئے تیاری ظاہر کر دی اور بندوق کی زبان سے اعلان کر دیا کہ بے حس و حرکت قاتلوں اور لٹیروں کے آگے پڑے رہو۔ایک دن عصر کے قریب آریہ سکول کے قریب مسلمانوں کی چھوٹی سی آبادی میں رونے دھونے اور چیخ و پکار کا شور بلند ہوا۔میں نے مکان کی چھت سے دیکھا تو کچھ لوگ ادھر دوڑے جاتے نظر آئے۔پھر پولیس پہنچی۔فائروں کی آوازیں آنے لگیں۔آخر نتیجہ یہ معلوم ہوا کہ چنا سکھ آبادی میں گھس کر دو مسلمانوں کو قتل کر گئے ہیں اور پولیس نے یہ کہہ کر مسلمانوں کو گھروں سے نکل جانے پر مجبور کر دیا کہ وہ کچھ نہیں کر سکتی۔اگر بھان بچانی ہے تو گھروں سے نکل بھاؤ۔چنانچہ لوگ نہایت ابتر حالت میں آنے شروع ہو گئے۔اس طرح جب وہ ساری آبادی خالی کرا لی گئی تو قریب کے دیہات کے سکھوں نے لوٹنا شروع کر دیا ہو پر باندھے وہاں کھڑے تھے اور صبح تک سب کچھ لے بنانے کے بعد مکانوں کی چھتیں اُکھیڑ کر لے جانے لگے۔یہ سب کچھ وہ کھلم کھلا کرتے نظر آرہے تھے مگر ملٹری اور پولیس نے جس کے لئے مسلمان مظلومین کی آہ تک نا قابل برداشت تھی خالہ سکھوں کی ان حرکات کو توجہ کے قابل ہی نہ سمجھا اور کسی نے ان کو روکنے کی تکلیف گوارہ نہ کی۔راتوں کو کرفیو کے باوجود جو حملے پناہ گزینوں پر کئے جاتے اور جن میں جان و مال کے علاوہ خواتین کی عصمت کو بھی ٹوٹا بھاتا اور جن کے دوران پولیس اور ملٹری حملہ آوروں کی نیشت پر نہیں بلکہ ان کے پہلو بہ پہلو ہوتی۔ان کا کسی قدر ذکر کرفیو کے عنوان کے نیچے کیا جا چکا ہے۔غرض یہ حملے روز برونہ زیادہ شدید اور کثیر ہوتے گئے حتی کہ انتہا کو جا پہنچے یا تباہ حال مسلمانوں کے مویشی کوٹ لئے۔به دو دن اور تین رات کی مسلسل بارش کے بعد جب مطلع صاف ہوا تو سورج نکلنے کے " الفصل" ۲۹ اخاء / اکتوبر اش + 81992