تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 190
بالا حکام سے جو ہمیں اطلاع ملی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقامی حکام نے مرکزی حکام کو صرف یہ اطلاع دی کہ سکھ جنھوں نے احمدی محلوں پر حملہ کیا۔تیس آدمی سکھ جتھوں کے مارے گئے اور تئیس آدمی احمدیوں کے مارے گئے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دو سو سے زیادہ قادیان میں احمدی مارے گئے جن میں کچھ غیر احمدی بھی شامل تھے جیسا کہ آگے بتایا جائے گا اور سکھ بھی تیس سے زیادہ مارے گئے کیونکہ گو اس غلطی کی وجہ سے جو اوپر بیان ہو چکی ہے منظم مقابلہ نہیں کیا۔لیکن مختلف آدمی بھی حفاظتی چوکیوں پر تھے، انہوں نے اچھا مقابلہ کیا اور بہت سے حملہ آوروں کو مارا۔یہ بھی معلوم ہوا کہ جب باہر سے پولیس اور سکھ حملہ کر رہے تھے اور ملڑی بھی ان کے ساتھ شامل تھی (گو کہا جاتا ہے کہ ملٹری کے اکثر سپاہیوں نے ہوا میں فائر کئے ہیں) اس وقت کچھ پولیس کے سپاہی محلوں کے اندر گھس گئے اور انہوں نے احمدیوں کو مجبور کیا کہ یہ کرفیو کا وقت ہے اپنے گھروں میں گھس بھائیں بچنا نچہ ایک احمدی گریجوائیں جو اپنے دروازے کے آگے کھڑا تھا اسے پولیس مین نے کہا کہ تم دروازے کے باہر کیوں کھڑے ہو۔جب اس نے کہا کہ یہ میرا گھر ہے، ہمیں اپنے گھر کے سامنے کھڑا ہوں تو اسے شوٹ کر دیا گیا اور جب وہ تڑپ رہا تھا تو سپاہی نے سنگین سے اس پر حملہ کر دیا اور تڑپتے ہوئے جسم پر سنگین مار مار کر اسے مار دیا۔اس کے بعد بہت سے محلوں کو لوٹ لیا گیا اور اب ان کے اندر کسی ٹوٹے پھوٹے سامان یا بے قیمت چیزوں کے سوا کچھ باقی نہیں۔مرکزی حصہ پر جو حملہ ہوا اس میں ایک شاندار واقعہ ہوا ہے جو قرونِ اولیٰ کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جب حملہ کوتے ہوئے پولیس اور سکھ شہر کے اندر گھس آئے اور شہر کے مغربی حصہ کے لوگوں کو مار پیٹ کر خالی کرانا چاہا۔اور وہ لوگ مشرقی حصہ میں منتقل ہو گئے تو معلوم ہوا کہ گلی کے پار ایک گھر میں چالیس عورتیں جمع تھیں وہ وہیں رہ گئی ہیں۔بعض افسران کو نکلوانے کے لئے گلی کے سرے پر جو مکان تھا وہاں پہنچے اور ان کے نکالنے کے لئے دو نوجوانوں کو بھیجا۔یہ نوجوان جس وقت گلی پار کرنے لگے تو سامنے کی چھتوں سے پولیس نے ان پر بے تحاشا گولیاں چلانی شروع کیں اور وہ لوگ واپس گھر میں آنے پر مجبور ہو گئے۔تب لکڑی کے تختے منگوا کر گلی کے مشرقی اور مغربی مکانوں کی دیواروں پر رکھ کر عورتوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کی گئی۔جو نوجوان اس مرزا احمدشفیع صاحب بی۔اسے (ناقل ) :