تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 191 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 191

۱۸۹ کام کے لئے گئے ان میں ایک سلام محمد فولدر مستری غلام قادر صاحب سیالکوٹ تھے اور دوسرے عبد الحق نام قادیان کے تھے جو احمدیت کی طرف مائل تو تھے مگر ابھی جماعت میں شامل نہیں ہوئے تھے۔یہ دونوں نوجوان پرستی ہوئی گولیوں میں سے تختے پر سے کودتے ہوئے اس مکان میں پچھلے گئے جہاں پھالیں عورتیں محصور تھیں ، انہوں نے ایک ایک عورت کو کندھے پر اُٹھا کہ تختے پر ڈالنا شروع کیا اور مشرقی مکان والوں نے انہیں کی کین کے انی رانگانا شروع کیا۔جب وہ اپنے خیال میں سب عورتوں کو نکال چکے اور خود واپس آگئے تو معلوم ہوا کہ انتالیس عور تیں آئی ہیں اور ایک بڑھیا عورت جو گولیوں سے ڈر کے مارے ایک کونے میں چھپی ہوئی تھی رہ گئی ہے۔اب ارد گرد کی چھتوں پر پولیس سبھوں کا ہجوم زیادہ ہو چکا تھا گولیاں بارش کی طرح گر رہی تھیں اور بظاہر اس مکان میں واپس جانا ناممکن تھا مگر میں اعلام محمد صاحب ولد میاں غلام قادر صاحب سیالکوٹی نے کہا جیس طرح بھی ہو میں واپس بھاؤں گا اور اس عورت کو بچا کہ لاؤں گا اور وہ برستی ہوئی گولیوں میں جو نہ صرفت در میانی راستہ پر برسائی جا رہی تھیں بلکہ اس گھر پر بھی برس رہی تھیں جہاں احمدی کھڑے ہوئے بچاؤ کی کوشش کر رہے تھے کود کر اس تختے پر چڑھ گئے جو دونوں مکانوں کے درمیان پل کے طور پر رکھا گیا تھا۔جب وہ دوسرے مکان میں کود رہے تھے تو رائفل کی گولی ان کے پیٹ میں لگی اور وہ مکان کے اندر گر پڑے۔مگر اس حالت میں بھی اس بہادر نوجوان نے اپنی تکلیف کی پروا نہ کی اور اسس ے بعض احمدی عورتوں نے بھی اس دن شجاعت اور بہادری کا شاندار نمونہ دکھایا۔چنانچہ سید نا اصبح الموجود خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : " جب قادیان میں ہندوؤں اور سکھوں نے حملہ کیا تو شہر کے باہر کے ایک محلہ میں ایک جگہ پر عورتوں کو اکٹھا کیا گیا اور ان کی سردار بھی ایک عورت ہی بنائی گئی جو بھیرہ کی رہنے والی تھی اس عورت نے مردوں سے بھی زیادہ بہادری کا نمونہ دکھایا۔ان عورتوں کے متعلق یہ خبرس آئی تھیں کہ جب سکھ یا ہند و حملہ کرتے تو وہ عورتیں ان دیواروں پر چڑھ جاتیں جو حفاظت کی غرض سے بنائی گئی تھیں اور ان سکھوں اور سہندوؤں کو جو تلواروں اور بندوقوں سے ان پر حملہ آور ہوتے تھے بھگا دیتی تھیں اور سب سے آگے وہ عورت ہوتی تھی جو بھیرہ کی رہنے والی تھی۔اور ان کی سردار بنائی گئی تھی" در ساده مصباح ماه صلح جنوری مش الاتحاد لذوات المخمار ما بار دوم جلد دوم)