تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 186 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 186

Jap اس کے کہ ان باتوں کوشن کو پاکستان گورنمنت کے منعقد حکام کوئی موثر قدم اٹھاتے انہوں نے بھی یہ حکم دے دیا ہے کہ چونکہ قادیان کی سڑک کو مشرقی پنجاب نے ناقابل سفر قرار دیا ہے اس لئے آئندہ ہماری طرف سے بھی کوئی کا نوائے وہاں نہیں جائے گی سالانکہ انہیں بچاہیئے یہ تھا کہ جب ستر بی پنجاب کے علاقوں میں بھی بارش ہوئی ہے تو وہ ان علاقوں کو بھی نا قابل سفر قرار دے دیتے اور مشرقی پنجاب جانے والے قافلوں کو روک لیتے۔قادیان کے مصائب کو کم کرنے کا ایک ذریعہ یہ تھا کہ قادیان کو ریفیوجی کیمپ قرار دے دیا جاتا۔لیکن دونوں گور میں فیصلہ کر چکی ہیں کہ ریوی کیمپ وہی گورنمنٹ مقرر کرے گی جس کی حکومت میں وہ علاقہ ہو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تجو معاہدہ ہو اس کی پابندی کی جائے لیکن سوال تو یہ ہے کہ اگر بار بار توجہ دلانے کے بعد بھی ہندوستان یونین مسلمان پناہ گزینوں کے بڑے بڑے کیمپوں کو ریفیوجی کیمپ قرار نہیں دیتی تو پاکستان کی حکومت کیوں مشرقی پنجاب کے پناہ گزینوں کے نئے مقامات کو ریفیوجی کیمپ قرار دے رہی ہے بحال ہی میں پاکستان گورنمنٹ نے پانچ نئے ریفیوجی کیمپ مقرر کئے بجانے کا اعلان کیا ہے۔کیا وہ اس کے مقابلہ میں ہندوستان یونین سے یہ مطالبہ نہیں کر سکتی کہ تم بھی ہماری مرضی کے مطابق پانچ نئے کیمپ بناؤ ہمیں موثق ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ محال ہی میں ہندوستان یونین نے ڈیرہ اسمعیلماں میں ریفیوجی کیمپ بنانے کا مطالبہ کیا ہے جہاں صرف پانچ ہزار پناہ گزین ہیں۔پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ ہندوستان یونین سے کہیے کہ اگر تم میں نامیاتی میں کیمپ بنوانا چاہتے ہو تو قادیان میں بھی کیمپ بناؤ۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستانی حکومت کا ریک کم ہوتا جائے گا اور ہندوستان یونین کے مطالبات بڑھتے جائیں گئے اور مسلمانوں کے حقوق پامال ہوتے پھلے جائیں گے۔تازہ آفیشل رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک سولہ لاکھ چھیالیس ہزار سات سو پچاس مسلمان مشرقی پنجاب کے کیمپوں میں پڑے ہیں۔اس کے مقابلہ میں صرف سات لاکھ سینتا نہیں ہزار دو سو بہتر غیرمسلم مغربی پنجاب میں ہیں بہارے حساب سے تو یہ اندازہ بھی غلط ہے مسلمان ساڑھے سولہ لاکھ نہیں۔۲۵-۲۲ لاکھ کے قریب مشرقی پنجاب میں پڑتے ہیں اور خطرہ ہے کہ اپنے حقوق کو استقلال کے ساتھ نہ مانگنے کے نتیجہ میں یہ سات لاکھ غیر مسلم بھی بھلدی سے اُدھر