تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 185 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 185

۱۸۳ ٹرک ہو قادیان بھانا تھا کس وقت بھائے گا۔پاکستانی افسروں کی موجودگی میں اس سوال کوشن کو میجر گھبرا گیا اور اس کو اشارہ سے کہا پھلا جا۔اور پھر پاکستانی افسروں سے کہا اس شخص کو غلطی لگی ہے۔قادیان کوئی ٹرک نہیں بجا سکتا۔چار ہی تاریخ کو پاکستان کے بوٹک قادیان گئے تھے اور ان کو بٹالہ میں روکا گیا تھا، انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ دو ملڑی کے ٹرک قادیان سے بٹالہ آئے سب سے کھلا ثبوت اس بات کے غلط ہونے کا تو یہ ہے کہ انہی تاریخوں میں جن میں کہا جاتا ہے کہ قادیان جانے والی سٹرک خواب ہے پرانی ملٹری قادیان سے باہر آئی ہے اور نئی ملٹری قادیان گئی ہے۔کیا یہ تبدیلی ہوائی جہازوں کے ذریعہ سے ہوئی ہے۔پس یہ یہانہ بالکل غلط ہے اور اصل غرض صرف یہ ہے کہ قادیان کے باشندوں کو جنہوں نے استقلال کے ساتھ مشرقی پنجاب میں رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے اس جرم میں ہلاک کر دیا جائے کہ وہ کیوں رتی پنجا ب میں سے نکلتے نہیں۔مونہہ سے کہا جاتا ہے ہم کسی کو نکالتے نہیں لیکن عمل سے اس بات کی تردید کی جاتی ہے۔یہ بات اخلاقی لحاظ سے نہایت ہی گندی اور نہایت نا پسندیدہ ہے جماعت احمدیہ نے مسٹر گاندھی کے پاس بھی بار بار اپیل کی ہے ، تاریں بھی دی ہیں اور بعض خطوط بھی لکھے ہیں لیکن مسٹر گاندھی کو ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف توجہ کرنے کی فرصت نہیں مسٹر نہرو کو بھی اس طرف توجہ دلائی گئی ہے مگر وہ بھی بڑے کاموں میں مشغول ہیں بچند ہزار بیگناہ مسلمانوں کا مارا جانا ایسا معاملہ نہیں ہے جس کی طرف یہ بڑے لوگ توجہ کر سکیں۔ایک چھوٹی سی مذہبی جماعت کے مقدس مقامات کی ہتک ان بڑے آدمیوں کے لئے کوئی قابل استناد بات نہیں۔اگر اس کا سوواں حصہ بھی انگریز قادیان میں کیس رہے ہوتے اور ان کی جان کا خطرہ ہوتا تو لارڈ مونٹ بیٹن کو حقوق انسانیت کا بعد یہ فوراً بے تاب کر دیتا۔مسٹر گاندھی بیسیوں تقریریں انگریزوں کے خلاف کارروائی کرنے والوں کے تعلق پبلک کے سامنے کر دیتے۔مسٹر نہرو کی آفیشل مشین فوراً متحرک ہو جاتی مگر کمزور جماعتوں کا خیال رکھنا خدا تعالیٰ کے سپرد ہے۔وہی غریبوں کا والی وارث ہوتا ہے یا وہ انہیں ایسی تکالیف سے بچاتا ہے اور یا پھر وہ ایسے مظلوموں کا انتقام لیتا ہے۔ہم تمام شریف دنیا کے سامنے اپیل کرتے ہیں کہ اس ظلم کے دور کرنے کی طرف توجہ کریں۔ہم نہیں سمجھ سکتے کہ پاکستان گورنمنٹ اس ظلم کو دور کرنے میں کیوں بے بس ہے بیٹھے