تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 6 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 6

نہایت درجہ سفا کی بے ہمی بلکہ درندگی سے تہ تیغ کئے جارہے تھے مسلمان عورتوں کی عصمت دری اور ان کے ساتھ شرمناک سلوک کے صبح شام بے شمار واقعات پیش آرہے تھے اور ان کے سامنے ان کے معصوم اور شیر خوار بچوں کو تلواروں، نیزوں اور کرپانوں سے ذبح کیا جا رہا تھا۔غرض اسلام کے نام لیواؤں پر ہر سو ایک قیامت برپا تھی ، ایک حشر ٹوٹ رہا تھد ظالموں کی چیرہ دستیوں سے بیچ نکلنے والے مظلوم مسلمان یا کیمپوں میں جمع ہو چکے تھے یا لٹے پٹے قافلوں کی صورت میں پاکستان کا رخ کئے ہوئے تھے۔اگتے دیکتے مسلمانوں کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا !! جہانتک تحصیل بٹالہ بالخصوص قادیان کا تعلق ہے۔اس کے قرب و نواح میں بسنے والی بہت سی مسلمان ہستیاں اُجڑ چکی تھیں اور ہزاروں نہتے اور مفلوک الحال مسلمان اپنا گھر بار اور ساز و سامان چھوڑ کر نہایت درجہ کس مپرسی اور پریشان حالی کے عالم میں قادیان میں پناہ گزین ہو چکے تھے۔اور سکھوں کے شوریدہ سر مجھے جن کو خون مسلم کی چاٹ لگ چکی تھی فوج اور پولیس کی پشت پناھی میں ایک سوچی کبھی سکیم کے مطابق قادیان کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اور اس پر حملہ کرنے کی در پر وہ نہایت خوفناک تیاریاں کر رہے تھے اور ماحول قادیان میں مسلم آبادی کا مکمل خاتمہ کرنے کے بعد وہ جلد از جلد اپنی اس ناپاک سازش کو پایہ تکمیل تک پہنچا دینا چاہتے تھے اور اپنے بے پناہ مادی سامانوں اور ظاہری تدبیروں کے بل بوتے پر یقین کئے ہوئے تھے کہ وہ مشرقی پنجاب میں ملت اسلامیہ کی اس آخری پناہ گاہ کی (معاذ اللہ) اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اور اس صوبہ کے ایک کمرے سے لے کر دوسرے سرے تک اسلام کا جھنڈا ہمیشہ کے لئے سرنگوں ہو جائے گا۔قتل و غارت اور آتشزنی کے اس وسیع اور خونی بھکر میں جماعت احمدیہ جیسی محدود وسائل رکھنے والی پر امن اور قلیل جماعت کا بے شمار مسائل سے دو چار ہونا لازمی امر تھا سب سے اہم مسئلہ تو قادیان کی حفاظت اور اس کے باشندوں کو صحیح و سالم پاکستان لانے کا تھا۔ے جناب محمد صدیق صاحب ثاقب زیروی کے ایک تحریری بیان (مورخہ ہم نبوت نو بر ش سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں اختیار آزاد کا ہور کے چیف ایڈیٹر نے دفتر " آزاد میں بتایا کہ مشرقی پنجاب کے بعض ایم۔ایل۔اسے قادیان کے ندیوں کو واپس دیئے بھانے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں بلکہ چوہدری کرشن گوپال دت اور چوہدری کرتار سنگھ ایم۔ایل۔نے اپنے خطوں میں یہانتک لکھا ہے کہ قادیان کی واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔قادیان والوں کو نکالنے کے لئے ہی تو ہم نے سارا ضلع گورداسپور لیا ہے ؟ اے