تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 5 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 5

بالاآخر جب خطرہ براہ راست قادیان کی آبادی پر منڈلانے لگا اور حالات لحظہ لحظہ زیادہ بگڑتے نظر آنے لگے تو حضور رضی اللہ عنہ جماعت احمدیہ کے سر بر آوردہ اور ذمہ وار اصحاب کے مشورہ۔پاکستان تشریف لے آئے۔حضرت محمود کا عہد قادیان سے ہجرت کے وقت حضرت علی موعود نے کادیان سے پاکستان کی طرف روانہ ہوتے وقت ایک نہایت اہم عہد کیا ہو حضور کے مبارک الفاظ میں درج ذیل کیا جاتا ہے۔فرماتے ہیں :- قادیان کے چھوٹ جانے کا صدمہ لازماً طبیعتوں پر ہوا ہے۔میری طبیعت پر بھی اس صدقہ کا اثر ہے لیکن میں نے جب قادیان چھوڑا یہ عہد کر لیا تھا کہ میں اس کا غم نہیں کرونگا میری ایک لڑکی کے ابھی بچہ پیدا ہوا تھا۔اس کی تھوڑا ہی عرصہ ہوا شادی ہوئی تھی اور ایک سال کے اندر ہی اس کے بچہ پیدا ہوا تھا۔ان کی ماں وفات پا چکی تھی وہ میر پاس رخصت ہونے کے لئے آئی اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا خاموش رہو یہ وقت رونے کا نہیں بلکہ یہ وقت کام کا ہے۔چنانچہ میں نے اس عہد کو سختی سے نبھایا ہے۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا تھا میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ جب میں ایک عزم کو چکا ہوں تو میں اس عزم کو آنسوؤں کے ساتھ کیوں مشتبہ کو دوں۔ہم اپنے آنسوؤں کو روکیں گے یہاں تک کہ ہم قادیان کو واپس لے لیں“ سے انحضور نے جب سر زمین پاک میں قدم رکھاتو ملکی اقول ہجرت کے وقت ناخوشگوار ماحول بالقادسے باہر ہو چکا تھا سیاسی صورت حال نہایت تیزی کے ساتھ نازک سے نازک تر ہوتی جا رہی تھی اور پورا بر صغیر فتنہ و فساد کے شعلوں کی پیسٹ میں آچکا تھا۔خصوصاً مشرقی پنجاب کا علاقہ ایک وسیع قتل گاہ کی صورت اختیار کر گیا تھا جہاں دشمنان اسلام مسلمانوں کے لئے دوسرا پین بنانے کا خونی منصوبہ باندھ چکے تھے اور مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلے ہوئے تھے۔روزانہ سینکڑوں ہی نہیں ہزاروں نہتے مسلمان له الفضل در احسان جون مش صفحه ۴ - ۵ کالم ۴-۱ +1409 +