تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 156
۱۵۶ کے انجے میں کرفیو لگا ہوا ہے مگر بعض دوست آج میرے مکان پہ ہی ٹھیر گئے ہیں۔تا اگر رات کو کوئی واقعہ ہو تو دُعا کے ساتھ رخصت کر سکیں۔باقی میں خدا کے فضل سے خدا کی رضا میں راضی ہوں اور حضور سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر یہی خدا کی مرضی ہے تو مجھے اس امتحان میں ثابت قدمی اور سرخروئی کے ساتھ گذرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آج معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ شام کو چودھری عبدالباری صاحب نائب ناظر بیت المال کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو اپنی موٹر لے کر کنوائے کے ساتھ باہر جانا چاہتے تھے۔الزام کا یقینی طور پر علم نہیں ہو سکا۔لیکن سُنا ہے کہ موٹر کا لائسینس اور PERMIT نہیں تھا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان کے ساتھ ۱۵-۲۰ ہزار روپیہ کا زیور بھی تھا جس کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔مگر یہ خبر ابھی تک مصدقہ نہیں ہے۔میں حضور کی خدمت میں یہ لکھنا بھول گیا کہ چار دن ہوئے سید محبوب عالم صاحب بہاری برادر اکبر سید محمود عالم صاحب صبح کی نماز کے بعد اپنے گھر سے سیر کے لئے نکلے تھے اور ابھی تک با وجود تلاش کے لاپتہ ہیں۔یہ جمعہ کے دن صبح کی بات ہے۔غالب گمان ہے کہ وہ سکھوں کے ہاتھ سے قتل ہو چکے ہیں۔عزیز داؤد احمد در ٹرک لے کر آیا ہوا ہے اور صبح واپس جائے گا۔میرا خیال ہے کہ اگر میں آج رات گرفتاری سے محفوظ رہا تو داؤد کے ساتھ میاں ناصر احمد صاحب اور بعض دوسرے بچوں کو جن کا باہر جانے کا قرعہ نکلا ہوا ہے لاہور بھجوا دیا جائے گا۔دوستوں کا اب یہی مشورہ ہے اور بہر حال جب حضور کی سکیم پر عمل کرنا ہے تو پھر قرعوں کا بھی نتیجہ یہی ہے۔دوسرے بچوں کے قرعہ کے نتیجہ میں میں نے عارضی طور پر کچھ تبدیلی کی ہے۔قرعہ میں رہنے والے یہاں یہ نکلے تھے۔عزیز ظفر احمد ، عزیز مجید احمد، عزیزہ حفیظ احمد العزیز طاہر احمد لے چودھری صاحب ۲۱ استفاد/ اکتو بر سر میش کو گورداسپور جیل سے رہا ہو کہ ۲۳ ر اخفاء کی شام کو سیالو پہنچے اور ۲۴ اخاء / اکتوبر کو لاہور آئے۔آپ اپنے ساتھ گورداسپور جیل سے حضرت سید زین العابدین ولی اله شاہ صاحب اور چودھری شریف احمد صاحب باجوہ کے خطوط جو سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفہ امسیح الالي المصلح الموعود کے نام تھے اپنے ہمراہ لائے جن سے ان کے کوائف کا علم ہوا ہے