تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 155 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 155

۱۵۵ پولیس نے لالہ سری رام کو ملا کہ ساتھ رکھا تھا اور اس کا رویہ بظاہر اچھا رہا بلکہ بعد میں مجھے پیغام بھیجا کہ مجھے پولیس مجبور کر کے اور مار کر ساتھ لائی۔الغرض چار گھنٹے تک یہ مہنگا نہ رہا پولیس کے سپاہیوں میں سے بھی بعض کا رویہ اچھا تھا اور بعض کا خراب میں اور میں نا صراحمد اور مرزا عزیز احمد صاحب اور بعض دوسرے بچے اس وقت مصلحت حضرت اماں جان کے مکان میں رہے اور پولیس اور ملٹری ادھر ادھر جاتے ہمیں دیکھتی رہی مگر اس طرف نہیں آئی ہچونکہ بعد میں محصور کا ٹینس پہنچ گیا تھا اس لئے مرزا عبد الحق صاحب کے ہاتھ یہ لائسنس اور میاں محمد احمد صاحب والا لائسینس پولیس اسٹیشن میں بھجوا دیئے گئے تاکہ مقابلہ کر کے تسلی کر لیں۔صاحبزادہ عبد الحمید والا لائسینس پہلے سے دے دیا گیا تھا مگر ابھی تک کوئی ہتھیار واپس نہیں ملا۔اور آئندہ کا علم نہیں۔یہ ہتھیار ملٹری کیمپ میں ہیں۔کچھ عرصہ بعد ایک ذریعہ سے جو بظا ہر سختہ تھا اطلاع ملی کہ میری گرفتاری کے احکام جاری ہو چکے ہیں مگر یہ معلوم نہیں ہوا کہ الزام کیا رکھا گیا ہے۔بعض لوگوں کا خیال تھا کہ شاید صاحبزاد عبد الحمید کے دیوانوں کے تعلق میں کوئی بات ہو یا SAFETY ORDINANCE کے ماتحت کوئی حکم ہو یا کوئی اور بات بنائی گئی ہو اور ساتھ ہی اطلاع ملی کہ بٹالہ کا D۔S۔P ایک گارو کے ساتھ قادیان پہنچ رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی مقامی پولیس نے کہلا بھیجا کہ۔۔چار بجے قادیان پہنچ رہے ہیں۔جماعت کے نمائیند سے پولیس اسٹیشن میں آکر میں۔چنانچہ مرزا عبد الحق صاحب ، راجہ علی محمد صاحب ، سید محمود اللہ شاہ صاحب ، مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ اور ملک غلام فرید صاحب پولیس اسٹیشن میں کافی عرصہ انتظار کرتے رہے اور اس عرصہ میں بٹالہ سے پولیس کی ایک موٹر بھی آئی مگر وہ سیدھی ملٹری کیمپ میں چلی گئی۔معلوم نہیں اس میں کون تھا۔البتہ اس میں کچھ ایڈیشنل پولیس تھی۔اس کے بعد اب تک کوئی مزیدہ کا روائی نہیں ہوئی۔گو میں نے مرزا عزیزیہ احمد صاحب کو امارت کا چارج سمجھا دیا تھا اور بچوں کی تسلی کے لئے بھی انہیں نصیحت کی گئی اور جو دوست موجود تھے یا یہ خبر سُن کر آگئے انہیں تسلی دی گئی اور ان کی ہمدردی کی گئی۔دوستوں پر اس خبر کا بہت بھاری اثر تھا اور سب نے استقلال اور رضا بقضا کا ثبوت دیا اور تفریح کے ساتھ دعا کی۔رات