تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 157
۱۵۷ عزیز انور احمد ، عزیز مسعود احمد اور عزیز محمد احمد بھاں۔میں نے اس میں حضور کے ارشاد کی وجہ سے محمد احمد کی تبدیلی کے علاوہ دوستوں اور بچوں کے مشورہ سے مندرجہ ذیل تبدیلی سمجھو تو کے ساتھ کر دی ہے اور اب یہاں کم از کم عارضی طور پر ذیل کے بیچتے یہاں ٹھہریں گے۔عزیز مبارک احمد ، عزیز منور احمد ، عزیز ظفر احمد عزیز مجید احمد، عزیز میر داؤ د احمد ، گوفی الحال عزیزہ اظہر احمد اور طاہر احمد کو بھجوا رہا ہوں یا حضور کے ارشاد کے ماتحت محمد احمد کو باقی انشاء اللہ آہستہ آہستہ تکمیل سکیم کے لئے روانہ کئے جائیں گے۔بالآخر دعا کے لئے عرض ہے۔یہ خط ساڑھے گیارہ بجے شب تحریر کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ یہاں کا اور وہاں کا حافظ و ناصر ہو۔والسلام خاکسار (دستخط) مرزا بشیر احمد ۲۲ شه جناب ملک غلام فرید صاحب کی نوشتہ معلوم ہوتی ہے اور دستخط حضرت میاں صاحب کے قلم سے نہیں ؛ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے مندرجہ بالا خطوط روز نامچہ قادیان ہیں کے بعد اب آپ کا مرتبہ روز نامچہ قادیان در ج از یکم تبوک استمبر تا ۱۶ ماه نبوت رو بر این ذیل کیا جاتا ہے :۔۲ ستمبر ۱۹۴۷مه - مسلمان گاؤں سٹھیائی پر جہاں خود حفاظتی کے خیال سے علاقہ کے اور کئی مسلمان دیہات بھی جمع تھے سکھوں کے حملہ کا آغاز ہوا جس میں جمعدار عمر اشرف احمدی شہید ہوئے۔ہے سے جمعدار صاحب مرحوم احمدیہ کمپنی ۱۵ ۸ پنجاب رجمنٹ سے جنوری کار میں فارغ ہوئے اور قادیان تشریف لیے آئے تھے۔۲۵ اگست کار کو آپ نے حفاظت سلسلہ کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔۲۶ اگست کو جناب شیر ولی صاحب کے حکم سے صوبیدار عبد المنان صاحب دہلوی ، عبد السلام صاحب سیالکوٹی ، حوالدار میجر محمد یوسف صاحب گجراتی، محمد اقبال صاحب عبد القادر صاحب کھارے والے ، غلام رسول صاحب سیالکوٹی ، فضل احمد صاحب اور عبدالغفار صاحب کے ہمراہ سٹھیالی روانہ کئے گئے جہاں سکھوں نے رائفل ،ٹین گن ، برین گن اور گرنیڈ ۳۶ کا بے دریغ استعمال کیا جمعدار محمد اشرفت صاحب اور صوبیدار عبد المنان صاحب دہلوی اور محمود احمد صاحب عارف تینوں بڑی بہادری دلیری اور جرات سے دفاع کر رہے تھے کہ یکایک برین گن کا ایک برسٹ جمع دار محمد اشرف صاحب کے سر پر لگا اور آپ اپنے مورائے حقیقی کے حضور پہنچ گئے۔اس معرکہ میں صوبیدار عبد المنان صاحب زخمی ہوئے اور آپ کے سینے اور منہ پر گولیاں لگیں۔اسی طرح فضل احمد صاحب کے گھٹنے میں مشین گن کی (بقیہ بھاشیہ اگلے صفحہ پر)