تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 136
١٣٩ رکھے گا اور مدد کرے گا۔اور اگر موت مقدر ہے تو اس سے کہیں بھی مفر نہیں بچا ہے سات پردوں میں چھپ جائیں۔میری طرف سے آپ اطمینان رکھیں۔میں اتنی بزدل نہیں ہوں۔میرا ایمان اللہ تعالیٰ پر مضبوط ہے۔اگر اس کی طرف سے ابتلاء آنا ہے تو ہر طرح آنا ہے۔بس یہی دُعا ہے کہ وہ ہر طرح ثابت قدم رکھے اور ہمارا ایمان کسی طرح متزلزل نہ ہو جائے“ " قادیان پر حملے کی خبر سن کر دل سخت پریشان ہو گیا ہے۔آج الفضل میں حضرت صاحب کا ایک مضمون چھپا جس میں حملہ کی تفاصیل موجود تھیں جس سے ۲۰۰ مسلمانوں کی شہادت کا علم ہوا۔نہ معلوم بیچارے کون کون سے تھے۔اللہ تعالے ان کی شہادت کو قبول فرمائے۔اور اُن کا خون اسلام کے پودے کو اس طرح پہنچے کہ یہ کبھی بھی نہ مرجھائے اور ابد الآباد تک ہرا بھرا اور لہلہاتا اور پھلتا پھولتا نظر آئے۔آمین یا رب العالمین۔یا اللہ ! تو ان شہد او کا صدقہ قادیان پر رحم کر اور اس کے رہنے والوں کو اپنی حفاظت میں لے لے اور اس کے مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے اپنے فرشتے بھیج دے جو کافروں کو نیست و نابود کر کے رکھ دیں۔آمین در انتها دار اکتوبر میش) ۶۱۹۴۷ خواجہ عبد الحمید صاحب ضیاء نے اپنے چھوٹے بھائی خواجہ عبداللطیف صاحب آف ڈیرہ دون کو لکھا: " آپ دونوں بھائیوں نے جس قربانی سے کام لیا ہے وہ سن کر ہم اپنے دل کی خوشی بیان نہیں کر سکتے ہماری گردنیں فخر سے اُونچی ہوتی ہیں اور ہم نے اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ اس نے اگر ہمیں نہیں تو ہمارے بھائیوں کو احمدیت کی تاریخی مہم میں نمایاں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائی۔الحمد للہ میں دونوں بھائیوں کو مبارکباد کہتا ہوں۔خدا تعالے تمہاری قربانیوں اور کوششوں کو ضائع نہیں فرمائے گا اور وہ نہ صرف تمہیں ہی بلکہ تمہاری قربانیوں کی خاطر جماعت کے لاکھوں انسانوں کی عزت کو قائم فرمائے گا آپ لوگوں کی قربانیاں بڑی ہیں لیکن اب آپ ہر گز تمام کئے کرائے پر پانی نہ پھیریں۔اور بغیر حضور کی یا کارکنوں کی اجازت کے قادیان سے نہ آئیں۔ایک ذرا سی غلطی تمام نیک اعمل