تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 135 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 135

اور عبدالرشید صاحب شر ما و عبدالحفیظ صاحب شر ما د قادیان میں مقیم بھائیوں) کو حسب ذیل عریضیہ لکھا۔قادیان کے بارہ میں جو خبریں آرہی ہیں اُن سے دل پھٹا جا رہا ہے۔وہ پیاری لیستی جو ہمیں دنیا کی سب چیزوں سے زیادہ عزیز ہے اس پر دشمن قابض ہو گیا ہے۔آپ لوگ بہت ہی خوش قسمت ہیں کہ آپ کو اپنے پیارے امام کی ہدایت کے مطابق قادیان کی خدمت کا موقع ملا ہوتا ہے۔قادیان کی حالت ایسی ہے کہ وہاں رہنے کا بظاہر انجام ظاہر ہے۔مگر انسان کی زندگی کے چند دن ہیں۔ایک نہ ایک دن مرنا ضرور ہے۔وہ موت کیا ہے! مبارک موت ہے جو شہادت کی موت ہو۔سنا جانتا ہے کہ میرا دل بھی چاہتا ہے کہ ایسے موقع پر آپ لوگوں کے ساتھ ہی مروی مر مجبور ہوں آ نہیں سکتا۔ہم آپ لوگوں کے لئے دعا کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔اگر خدا تعالیٰ کو ہم سے کسی کی شہادت ہی منظور ہو تو چاہیے کہ ہم میں سے کوئی کمزوری نہ دکھائے اور اس امتحان کے موقع پر اپنے خاندان کی لاج رکھ لے" اہلیہ صاحبہ محترم حسن محمد خال عارف وکیل التجارت کا مراسلہ اپنے شوہر کے نام :- خدا کرے آپ لوگ جلد قادیان کو فتح کر لیں۔خدا آپ کا اور سب کا حامی و مددگار ہو۔اس کا فضل آپ سب کے شامل حال رہے۔اور آپ ایسی خدمت دین بجا لائیں کہ خدا آپ سے خوش ہو جائے اور زیادہ سے زیادہ اپنی رحمتیں اور برکتیں آپ لوگوں پر نازل فرمائے “ و اخاه اکتوبر میش) محترمہ امت اللطیف بیگم صاحبہ (لاہور) نے اپنے خاوند محترم ڈاکٹر محمد احمد صاحب کو ایک خط میں لکھا۔اب میری بھی یہی نصیحت ہے اور اماں جی کی بھی یہی نصیحت ہے کہ وہاں پر خدا کے بھروس پر بیٹھے رہیں۔اللہ تعالئے وہاں پر ہی حفاظت کرے گا اور ایمان رکھنے والوں کو ضائع نہیں کرے گے آپ اجازت لینے کی بھی کوشش نہ کریں " " ہم سب کو سندا کے حوالے کر دیں وہی سب کا پیدا کرنے والا ہے۔جب اس نے پیدا کیا ہے تو وہی حفاظت بھی کرے گا اور کھانے کو بھی دے گا۔اگر اس نے زندہ رکھنا ہے تو ہر طرح سله حال نائب وکیل التقشير تحریک جدید ربوه :