تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 134 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 134

۱۳ کہ احدیت پھیلے پھلے اور پھولے اور مرکز بھی محفوظ رہے۔بہت مبارک ہو کہ مرکز میں خدا کے مقدسین کے سائے میں اور ان کی معیت میں موجود ہو۔ہمارا فکر ینہ کرنا ، ہماری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں اور اب اس امر کے سوا ہمارے پاس اور کوئی ذریعہ عزیزہ کے ساتھ تعلق کا باقی نہیں ہے۔شعائر اللہ کی بے حرمتی کا تصور کرتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور ان رو دادوں کے پڑھنے سے جو اخبارا میں دارالامان کے متعلق بھلی عنوانات سے آرہی ہیں ول ہو تا ہے مگر چارہ کار کیا ؟ میری آنکھوں میں پھر تکلیف ہو گئی ہے مگر یہ محض قادیان کے فکر میں آنسو بہا کر۔کیا ہماری بعد گوردوارے بن جائیں گی ، کیا قادیان کی پورانی گیرد وارہ بنی ہوئی مسجد ہی ہمارے لئے کافی نہ تھی کہ اب اور نیا ظلم ہوگا۔قادیان سے مستورات کس طرح نکلیں گی اور بچے اور بوڑھے کیا کریں گے پیہ خیالات ہیں جو ہر وقت مستولی رہتے ہیں اور کوئی بات تصور میں آتی ہی نہیں۔ہمیں اپنے مال و اسباب سے محروم ہونے کا غم نہیں۔جان دینا بھی مشکل نہیں مگر مرکز کی اہانت ناقابل برداشت ہے۔مقبرہ بہشتی کے دشمنوں کی جولانگاہ بن جانا ایک ایسا ہولناک تصویر ہے جس کے لئے الفاظ نہیں مل سکتے کہ بیان کرسکوں بہر حال ہم سب دعا کر رہے ہیں۔(۱۳ خار / اکتوبر ۱۳۳۶ ش) $1402 ۴۔مولوی محمد عثمان صاحب آن ڈیرہ غازیخان نے فضل علی صاحب ، عبد الغنی صاحب اور ہدایت اللہ صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا :- آپ مومنانہ شان کے ساتھ ہمت اور استقلال سے مرکز کی حفاظت کرتے رہیں۔ہماری دعا ہے کہ آپ خیریت سے انہیں اور خدا تعالے آپ کو دشمن کے ہر شر سے محفوظ رکھے آمین و هم را خاهر التوبه ۳۳۶ هر میش) ۵- محترم مولوی عبدالکریم صاحب شرکا واقف زندگی نے اپنے والد ماجد جناب عبد الرحیم صاحب شرکا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔آخری عمر میں جماعت احمدیہ ضلع ڈیرہ غازیخاں کی امارت کے فرائض بھی بجا لاتے رہے ؟ کے سابق مبلغ مشرقی افریقہ :