تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 133
تمہارا ایک خط مجھے ۲۴ ستمبر کو ملا تھا وہ بھی استمبر کو لکھا ہوا تھا۔اب جبکہ قادیان پر حملے شروع ہیں کوئی خیریت نامہ تمہارا نہیں ملا۔میں اور تمہاری والدہ اللہ تعالے کی رضا پر راضی ہیں۔تمہارے لئے میرا یہی کہنا ہے بُزدلی نہ دکھانا۔موت صرف ایک دفعہ آئے گی۔اگر ابھی تمہارا وقت نہیں آیا تو کوئی طاقت تمہاری زندگی کو ختم نہیں کر سکتی اور اگر شہادت کی نعمت تمہاری قسمت میں ہے تو یہ اللہ تعالٰی کا تم پر بڑا فضل ہوگا اور ساتھ ہی میری گردن بھی اُونچی ہوگی۔دنیا چند روزہ ہے۔ایسے نازک وقت اگر یہ خط تم کو مل جائے تو ہم سب کے لئے دُعا کرنا اور میرے گناہوں کی معافی خدا تعالیٰ سے مانگنا۔ہم سب تمہارے لئے دُعا کرتے ہیں۔زیادہ کیا لکھوں۔تمہارا حافظ و ناصر خدا تعالئے ہی ہے۔اسی پہ کامل یقین رکھو اور قادیان کی حفاظت کو مدنظر فقط" ۲- کریم سلطان عالم صاحب احمدی گوٹیالہ ضلع گجرات نے اپنے لخت جگر مکرم بشارت احمد صاحب کو کھا :- ایک کارڈ دو لفافے آپ کے پہنچے جن سے ہم ایک کے حالات سے آگا ہی ہو چکی ہے۔دل ہر طرح سے مطمئن ہے۔ملول گیا ہے خوشی ہے کہ اگر میں بذاتہ اس خدمت کے بجالانے کے قابل نہیں ہوں تو سندا نے آپ کو توفیق دی ہے “ د مه ۲۸ توک استمبر ش) سید محمد ہاشم صاحب بخاری کا ایک خط اپنے ایک عزیز کے نام :-۔" آج صبح خاندان کے تمام افراد سوائے عزیز عبد الباسط کے بخیریت پہنچے۔الحمد للہ عزیزہ کو نہ پا کر کوفت ہوئی مگر اس خیال سے کہ عزیز خدمت کے زرین موقعہ پر دار الامان رہا ہے دل سکون پاتا رہا ہے۔اللہ تعالے اپنا فضل فرمائے اور ہر شہر کو دُور فرما دے۔دشمنوں کے ہاتھوں کو روک دے جیسا کہ مسیح پاک کے الہامات سے واضح ہوتا ہے کہ خدا کا وعدہ ہے۔اے کاش کا یہ وعدہ ہمارے سامنے پورا ہوتا اور ہم بھی اس خوشی کو دیکھ سکتے۔تقدیر کے نوشتے ضرور پورے ہوں گے۔اور یہ اس کی تقدیر ہے لے سابق مبلغ مغربی افریقہ : کے نائب معتمد خدام الاحمدیہ مرکزیہ اور سید محمد ہاشم صاحب بھکاری کے داداد :