تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 121
۱۲۱ ہوتا۔اسی وقت طرفتہ العین میں مجھ میں اپنی شکستہ ہمت اور دہشت زدہ ہو اس پر قابو پانے کی طاقت بجلی کی طرح عود کر آئی اور میں اپنی پوری طاقت سے دوڑ کر ایک لاری پر چڑھنے میں کامیاب ہو گیا۔اگر چہ میں جگہ میں پڑھا تھا وہ تکلیف دہ اور غیر محفوظ تھی لیعنی ڈرائیور کے پیچھے جہاں لاری کا فالتو پہیہ رکھا جاتا ہے۔میرا اوپر کا نصفت جسم باہر فضا میں تھا اور کسی وقت بھی دشمن کی بے تحاشہ گولیوں سے چھلنی ہو جاتا لیکن کیمپ میں تنہا رہ کر گتے کی موت مرنے کی نسبت یہ جگہ میرے لئے بہشت بریں سے کم نہ تھی۔ابھی تک ہماری لاریاں اسی وسیع میدان میں چل رہی تھیں جہاں سے ہم گئے تھے اور گولیاں برابر ستاتی ہوئی ہمارے سروں پر سے گذر رہی تھیں۔پناہ گزین بیچارے ایسے سہمے بیٹھے تھے جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔تھوڑی دیر کے بعد ہم میدان سے نکل کر بازار کی ایک گلی میں داخل ہو گئے عجیب بات تھی۔یہاں لوگ تمہیں دیکھ کر بے تحاشا ادھر ادھر بھاگنے لگے جیسے ہم ان پر حملہ کرنے والے تھے۔بازار میں سے نکل کر ہم ریلوے سٹیشن کے ساتھ والی سڑک پر آگئے۔کافی دور تک سڑک خالی اور غیر آباد تھی۔کہیں کہیں بے چارے تباہ شدہ مسلمانوں کی ٹوٹی اور ٹوٹی ہوئی دو کھائیں دیکھنے میں آتی تھیں۔کچھ ڈور بھا کر ہماری لاریاں ایک دم رک گئیں۔ہم حیران ہوئے کہ یہ ڑکنے کی کونسی جگہ تھی۔مگر جب میری نظر سڑک کے سامنے پڑی تو یہ دیکھ کر میرا خون منجمد ہونے لگا کیونکہ ہمارا راستہ لوہے کے بڑے بڑے پہیئے رکھ کر بند کیا ہوا تھا اور سٹرک کی دونوں جانب زمین پر دو دو سیکھ اور دو دو ڈوگرے برین گن تھامے ہوئے اوندھے منہ لیٹے ہوئے تھے۔انہوں نے انگلی برین گن کی لیلی پر رکھی ہوئی تھی۔وہ حکم کے منتظر تھے اور نزدیک ہی جنوب کی طرف ایک دو منزلہ عمارت کی چھت پر کئی مسلح ہندو سیکھ لوہے کی ٹوپیاں پہنے ہوئے سوراخوں سے ہمیں تاک رہے تھے۔نہ معلوم کتنی دیر ہم وہاں ان کے رحم و کرم پر پڑے رہے۔اسی اثناء میں سفید لباس میں ملبوس بے شمار سیکھ ہندو ہمارے ارد گرد جمع ہونے شروع ہوئے۔ہر ایک نے کوئی نہ کوئی ہتھیار ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا۔ان کی آنکھوں سے غیظ و غضب اور وحشت کے شرارے پھوٹ رہے تھے۔