تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 120
۱۲۰ خوفزدہ نظروں سے تکنے لگے۔ان بیچاروں کو کیا معلوم تھا کہ ان کا خواب اتنی جلدی شرمندہ تعبیر ہونے والا نہ تھا۔بیسیوں پناہ گزین چند لمحوں میں لقمہ اجل بن گئے۔اس طرح بے بسی کی لغت میں مارے بھانے کا احساس دوسر سے انسانوں کو بھی بد حواس کر دینے کے لئے کافی تھا جس داری میں میں بیٹھا ہوا تھا وہ خاص طور پر ظالموں کا نشانہ بنی ہوئی تھی اور گولیاں بے تحاشہ اس طرف ترکیا کریا کرتی ہوئی آرہی تھیں۔یہ صورت حال میرے لئے آپ بھی مایوس کن تھی چند سیکنڈ تک میں اپنی جگہ بے حس و حرکت دہشت زدہ آنکھوں سے دیکھتا رہا کہ کس طرح بعض پناہ گزین ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ رہے تھے۔بعض کے شانوں سے خون کی دھار اہل رہی تھی اور بعض خون میں لوٹ پوٹ رہے تھے۔اور یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ساری کائنات کراہ رہی ہے۔ان کے چہرے فرط خون سے سپید پڑچکے تھے۔ٹانگیں تھر تھرا رہی تھیں۔اگر چہ میری کیفیت یہ نہ تھی تاہم موت کو اتنے قریب پا کر اپنے جو اس بر قرار نہیں رکھ سکتا تھا۔پناہ گزینوں کو اس طرح کرتے ہوئے اور زخمی ہوتے ہوئے مجھ سے دیکھا نہ گیا تھا۔یہ دیکھے کو میرے دل میں لاری سے اُتر جانے کا خیال پیدا ہوا۔لیکن اس وقت اُترنا بہت سخت اور جان لیوا مرحلہ تھا مگر مجبوراً دھڑکتے دل کے ساتھ میں لاری سے اُتر گیا اور نزدیک جواہر کے کنارے گولیوں کی زد سے بچنے کے لئے ایک مٹی کے ٹیلہ کی آڑ لی لیکن ابھی میں مشکل وہاں بیٹھا ہی تھا کہ دو گولیاں سنسناتی ہوئی میرے دائیں بائیں سے اتنے قریب سے گذریں که میری ذراسی جنبش مجھے موت کے آغوش میں سلانے کے لئے کافی تھی اور ایک گولی میرے سامنے آکر زمین میں دھنس گئی جس کی گرد سے آنکھیں چندھیا گئیں۔میں ذرا پیچھے ہٹاتا اپنے آپ کو اور محفوظ جگہ پر پہنچاؤں لیکن آپ میرے خودت و ہر اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے جب میں نے دیکھا کہ مجھے وہاں تنہا چھوڑ کر لاریاں روانہ ہونے لگی ہیں۔دل سخت دھڑکنے لگا اور چند سیکنڈ تک میں اپنی جگہ بیس و ترکت کھڑا رہا۔میرا ذہن بالکل ماؤف ہو چکا تھا میری ہمت قطعاً جواب دے چکی تھی۔اگر چہ مجھے موت کا کوئی خوت نہیں تھا لیکن اس طرح دشمن کے گھیرے میں کتے کی موت مرنے کو میں تیار نہیں تھا۔اس وقت اگر مجھے غیبی ہاتھ تھامے ہوئے نہ ہوتا تو میں کبھی کا ان درندوں کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکا