تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 122 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 122

۔۔بائیں طرف ایک طویل و عریض میدان تھا جو اُن لوگوں سے اس قدر بھرا ہوا تھا کہ تل دھرنے اُ کی جگہ نہ رہی۔دائیں طرف ایک لمبی چوڑی لگی میں جو ہجوم سے اٹی پڑی تھی۔آس پاس سرک کے کنارے دکانیں تھیں جن کی چھتوں پر بکثرت لوگ چڑھے ہوئے تھے۔ایک سکھ حوالدار جو اس خوفناک ڈرامے کا ہیرو تھا اور جو ان ہلاکت خیز سرگرمیوں میں اہم رول ادا کر رہا تھا کی زبانی معلوم ہوا کہ سات ہزار سکھ مہندو اپنے دل کی پیاس ہمارے نون سے بجھانے کی غرض سے جمع ہیں۔اور وہ ہم پر ٹوٹنے اور ہمارے جسموں کو اپنے تیز اور نوکدار ہتھیاروں سے چھیدنے کے لئے بالکل تیار کھڑے ہیں۔یہ خونچکاں منظر دیکھ کر ہمارے دل پر جو کیفیت گزری وہ الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔میں جس جگہ کھڑا تھا وہ چونکہ عین مورچہ کے منہ پر تھا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ میں یہاں سے اتر کر دوسری میگہ پھلا بجاؤں۔اس وقت اُترنا یقیناً موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔دل تھام کر میں اُتر ہی گیا۔مگر اس خیال سے پھر واپس اپنی جگہ پر آیا کہ اس وقت موت سے اپنی جان بچانا بزدلی ہے۔تھوڑی دیر کے بعد مجھے یاد آیا کہ میں نے ابھی تک ظہر اور عصر کی نمازیں نہیں پڑھیں چنا نچہ لاری کے تم پال پر تمیم کر کے میں نے دونوں نمازیں اشاروں سے ادا کیں۔ادھر میں نماز سے فارغ ہوا۔اور ادھر ایک لرزہ خیز دھماکہ سے ساری فضا گونج اُٹھی پیچھے ہو مڑ کر دیکھا تو ہماری سب سے پچھلی لاری پر ایک دستی بم پھینکا گیا جس سے یہ قیامت خیز دھماکہ ہوا تھا۔اس لاری کے تمام کل پرزے ہوا میں اس طرح اُڑ رہے تھے جس طرح روٹی کے گالے اس میں بیٹھے ہوئے پناہ گزینوں پر جو گذری اس کا اندازہ آپ تصور میں بھی نہیں لا سکتے۔ان میں سے اکثر موت کے آغوش میں ہمیشہ کی نیند سو گئے اور جو باقی بچے تھے وہ بری طرح مجروح ہوئے۔ابھی اس دردناک اور بھیگر سوز منظر کا زخم مندمل نہ ہونے پایا تھا کہ ان سفاکوں نے مورچے سے پوری فائرنگ کھول دی۔الامان الحفیظ ہر وہ فائرنگ تھی یا بلائے ناگہانی۔فضا گولیوں کی سنت ہٹ سے گونج اٹھی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قریب سے آتش فشان پہاڑ پھٹ گیا ہے۔گولیاں بارش کی طرح سن سن کرتی ہوئی گزر رہی تھیں۔پتا بگرین بیچارے دانوں کی طرح بھٹتے جارہے تھے معلوم نہیں ہم میں سے کتنے زخمی ہوئے اور کتنے مارے گئے