تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 119 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 119

119 مسلمان پناہ گزین لے جانے کی اجازت کے لئے ان سے درخواست کی تو کچھ دیر تامل کے بعد انہوں نے تمہیں ایسا کرنے کی اجازت دے دی۔ہم کوئی دس بجے ایک میدان میں سے گزر کر پناہ گزین کیمپ میں داخل ہوئے۔یہاں ایک بہت بڑا جو ہر تھا جس کے کنارے یہ ستم رسیدہ پناہ گزین پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ان کی حالت انتہائی قابل رحم تھی۔لاغر اور مفلوک الحال تھے۔ایسا معلوم ہوتا تھا گویا برسوں سے بیمار ہیں۔اور جیسے خوشیاں ہمیشہ کے لئے ان سے منہ موڑ چکی ہیں۔چلنے پھرنے کی ان میں سکت نہ تھی۔ننگی اور کھری زمین ہی ان کا بستر بچھو نا تھی۔پھٹے پرانے چیتھڑے زیب تن کئے ہوئے تھے۔کوئی سویا ہوا تھا کوئی لیٹا ہوا تھا کوئی جو ہڑ سے پانی پی رہا تھا۔معمر عورتیں ایک دوسرے کے سامنے آلتی پالتی مارے بھی تھیں۔یہ درد ناک منظر دیکھ کر یقین جانئے ہمارا کلیجہ پھٹ گیا۔کیمپ میں ایک ہولناک سکوت طاری تھا۔ہم حیران تھے کہ ہمیں دیکھ کر یہ خوش کیوں نہیں ہوئے۔شاید اس لئے کہ ان کی یہاں سے بچ نکلنے کی امید بالکل منقطع ہو چکی تھی اور زندہ رہنے کا احساس مٹ چکا تھا۔لیکن جونہی ان کو بتایا گیا کہ ہم ان کو پاکستان لے بجانے کے لئے آئے ہیں تو خدا معلوم ان میں اتنی پھرتی اور طاقت کہاں سے آ گئی کہ دیکھتے ہی دیکھتے سب کے سب لاریوں پر ٹوٹ پڑے۔وہ لاریوں پر چڑھنے کی دھن میں ایک دوسرے سے بُری طرح ٹکرا رہے تھے اور ان میں وہ گہما گہمی ہوئی کہ ہم انگشت بدنداں رہ گئے۔آنِ واحد میں ساری لاریاں بھر گئیں۔کیمپ میں کچھ ہندو اور سکھ ادھر ادھر پھرتے ہوئے نظر آ رہے تھے جو ہمیں غیظ و غضب کی نظروں سے گھور رہے تھے جب ہماری تمام لاریاں بھر گئیں اور ہم روانہ ہونے کو تھے وفعتہ کیمپ کے ارد گر دبی لمبی گھاس اور گھنی جھاڑیوں میں سے جہاں مشین گنیں اور برین گنیں تھامے ہوئے یہ ظالم چھپے ہوئے تھے گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہوئی۔ایسی غضب کی بوچھاڑہ تھی کہ کانوں کے پیہ دے پھٹ جانے کا اندیشہ ہونے لگا۔یہ دیکھ کر ہمارے دل دہل گئے اور لے لیسی کے عالم میں موت کے ہیبت ناک خون سے ہمارے جسم کپکپانے لگے۔بیچارے پہ ناہ گزین جو چند لمحہ پہلے پاکستان پہنچنے کا خوشگوار خواب دیکھ رہے تھے اب ایک دوسرے کی طرحت