تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 118 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 118

HA لئے لاریوں سے اُتمہ کو ادھر اُدھر ٹہلنے لگے۔دائیں بائیں عمارتیں کھنڈرات کی صورت میں نظر آرہی تھیں۔فیکٹریاں اور ان کی ٹوٹی ہوئی مشینیں بھی دکھائی دے رہی تھیں۔ہم سب چُپ چاپ دیر تک ان کھنڈرات میں گھوم رہے تھے۔یکا یک مشرق کی طرف سے ہمارے کچھ آدمی ایک کمرہ نما عمارت کے گرد جمع ہونے شروع ہوئے یکیں بھی دیکھا دیکھی وہاں پہنچ گیا۔ان کیسا مکروہ منظر مجھے دیکھنا پڑا۔ایک عورت کی نصف لاش کٹی ہوئی پڑی تھی۔لاش بالکل تازہ تھی ہیں تو زیادہ دیر وہاں ٹھہر نہ سکا۔سر میں چکر آنے لگے اور آنکھوں میں اندھیرا۔فوراً واپس اپنی لاری میں آکر بیٹھ گیا اور ان وحشیانہ تصورات سے قریب تھا کہ میں دیوانہ ہو جاتا۔ہمیں وہاں رکے ہوئے کافی دیر ہو گئی تھی۔سورج غروب ہونے کو تھا۔دلوں میں خوف اضطراب کی لہر دوڑ نے لگی جوں جوں وقت گزرتا گیا ہمارا اضطراب بھی اسی مقدار سے بڑھتا گیا۔اس وقت جب سورج کی سنہری کر نیں آنکھوں سے اوجھیل ہوئیں اور تاریکی فضاء پر چھا رہی تھی مطلع پر ستارے ہماری مظلومیت پر آنسو بہانے کے لئے بے نقاب ہو رہے اور تھے۔تب عین اس وقت خبر آئی کہ رات یہیں پر گزاری جائے گی۔ہم بالکل نہتے تھے۔نہتے ہونے کے احساس نے ہمیں بری طرح گھائل کیا ہوا تھا۔" حکیم تھا کم مرگ مفاجات ناچار ہمیں رات وہیں گزارنی پڑی۔لیکن اس بھیانک ماحول میں پھیلا نیند کس کو آسکتی تھی۔بڑی مشکل سے اُٹھتے بیٹھتے ہم نے رات گزار دی۔صبح کو آٹھ بجے خبر آئی کہ چونکہ بارش کی وجہ سے قادیان کا راستہ خراب ہو چکا ہے اس لئے تم واپس لاہور چلے جاؤ ورنہ یہاں تمہیں ہندو اور سیکھ زندہ نہیں چھوڑیں گے۔یہ سنتے ہی ہمارے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔اتنا خرچ ، اتنی تگ و دو اور اتنی صعوبتوں کے بعد بے نیل و مرام واپس بھانا ہمارے لئے ایک صدمہ تعظیم تھا۔ہم نے ان ظالموں کی بڑی منت سماجت کی۔لجاجت اور انکساری سے ان سے درخواست کی کہ وہ ہمیں قادیان بجانے کی اجازت دے دیں مگر ان کا پتھر دل ہماری لجاجت سے ذرا بھی متاثر نہ ہوا۔در اصل راستہ کوئی خواب نہ تھا۔صرف اس لئے وہ ہمارے واپس بھانے پر مصر تھے کہ اس رات وہ قادیان پر حملہ کرنے کی تیاری میں مصروف تھے۔بالآخر ہم نے اپنے ساتھ بٹالہ کے