تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 98
تعداد میں ہجرت کر کے آنے والے احمدیوں کو لاہور میں ٹھہرانے اور پھر ان کو پاکستان کے مختلف شہروں میں آبادی کے لئے پہنچانے کا انتظام میرے دفتر کی طرف سے کیا گیا اور اللہ کے فضل سے یہ لوگ جلد ہی اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے اور اس قابل ہو گئے کہ نہ صرف یہ کہ اپنے آپ ہی کو سنبھا ئیں بلکہ جماعت کی بھی مدد کر سکیں۔بے سروسامانی کے وقت میں یہ کام جس طرح سے کیا گیا یہ محض اللہ کا فضل تھا۔کیونکہ اتنے لوگوں کو آباد کرنے کے لئے بہت وسائل کی ضرورت تھی جو ہمیں میسر نہ تھے۔ہمارے پاس روپیہ نہیں تھا۔لیکن اس بے سرو سانچی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسے رنگ میں کام کرنے کی توفیق دی کہ جماعت کا روپیہ بھی بہت ہی قلیل خرچ ہوا اور سب دوست آباد بھی ہو گئے۔اتنے احباب کے ٹھہرانے اور ان کے لئے انتظام کرنا بڑا مشکل تھا اور ہر لحظہ یہ خطرہ ہوتا تھا کہ کوئی دبا نہ پھوٹ پڑے۔یہ محض اللہ کا فضل تھا کہ ہمارے صرف دو تین احباب ہیضہ کی وجہ سے شہید ہوئے جن میں سے ایک مولوی محمود احمد صاحب خوشابی معلم مدرسہ احمدیہ تھے۔ان تمام احباب کو خاکسار خود ہی سنبھالتا رہا اور اللہ سے دعا کرتا رہا کہ اللہ تعالٰی اپنے فضل سے ہمیں وہاؤں سے محفوظ رکھے بچنا نچہ اللہ تعالیٰ نے عام طور پر فرشتوں کے ذریعہ سے ہماری مدد کی اور سوائے دو تین احمدیوں کے جو اس وبا سے شہید ہوئے باقی محفوظ رہے۔ہمیں آباد کرنے کے لئے دن رات چوبیس گھنٹوں میں جو جد و جہد کرنی پڑتی تھی اس کا نقشہ کھینچنا الفاظ میں ناممکن ہے کیونکہ محلہ کی کمی تھی اور ہم صرف دو کارکن تھے نہیں کئی ماہ تک دفتر پر میں گھنٹے کھلا رکھنا پڑتا رہا حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ کا اپنا یہ حال تھا کہ ان بے سروسامان احمدی احباب کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے حضور نے اپنی چارپائی پر سونا ترک کر دیا اور ایک عرصہ دراز تک جبتک احباب آباد نہیں ہو گئے چار پائی سے نیچے ہی سوتے رہے۔اور دن رات آپ کو یہی فکر ہوتا تھا کہ کسی طرح کسی دوست کو کوئی پریشانی نہ ہو اور وہ آباد ہو جائے “ لے مہاجرین کی آبادی کے سلسلہ میں حضرت منشی محمد دین صاحب ملتانی مختار عام کی انتھک مساعی اور بے لوث خدمات کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔حضرت منشی صاحب ۱۳ امضا / اکتوبر رمیش کو قادیان غیر مطبوعه۔سے