تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 97
94 باہر والوں کے لئے بھی تھا۔قادیان سے احباب کا نوائے کے ذریعہ سے گروہ در گروہ لاہور پہنچنا شروع ہو گئے۔خاکسار کے ذمہ ان لوگوں کو ٹھہرانے اور پھر ان کو آباد کرنے کا کام تھا اور یہ کام بظاہر بڑا مشکل اور بڑا نازک تھا۔اس غرض کے لئے خاکسار نے جودھامل بلڈنگ میں دفترق کم کیا اور ملک محمد احمد صاحب واقف زندگی بطور کلرک متعین کئے گئے حکومت کی طرف سے جو محکمہ بجات مہاجرین کی آبادکاری کے لئے مقرر کئے گئے تھے اُن کے ساتھ میں نے رابطہ ق تم کیا۔پاکستان کی جماعت کے امراء کے ساتھ اور ذی اثر لوگوں کے ساتھ خط و کتابت کی اور ان حالات کا پوری طرح سے بغور جائزہ لیا جن کے ذریعہ سے ہمارے احمدی احباب کو سر چھپانے کے لئے جگہ اور پیٹ پالنے کے لئے کام مل سکتا تھا۔چنانچہ جو احباب قاریان سے لاہور پہنچتے ان کو سائبانوں کے نیچے جگہ دی بھاتی۔ان کے لئے کھانے کا بندوبست کیا جاتا اور ہر ایک سے تبادلہ خیالات کی کے ان کے مناسب حال مقامات پر پہنچانے کے لئے سفارشی پیٹھیاں دی جاتیں۔میرے دفتر کی طرف سے آباد کاری کے لئے ہر جہاں جہ کو ایک سرٹیفکیٹ دیا جاتا تھا جسے دیکھ کر تمام سرکاری محکمہ جات بھی سرٹیفکیٹ کے عامل کو پوری مدد دیتے تھے اور انہیں مکان، زمین اور دیگر سامان مہیا کرتے۔حضرت امیر المومنین نے مجھے یہ ہدایت فرمائی۔چونکہ قادیان ہمارا دائمی مرکز ہے اور ہم اس میں جلد یا بدیر واپس بھائیں گے ہمیں اسے اپنے سامنے رکھنے کے لئے زمیندار اصحاب کو قادیان سے قریب ترین علاقہ میں بسات کی کوشش کی جائے بچونکہ قادیان سے قریب ترین علاقہ سیالکوٹ، شکر گڑھ اور نارووال کا تھا اس لئے میں نے زمیندار اصحاب کو وہاں زمینیں دلانے اور آباد کرنے کی کوشش کی۔چنانچہ اب تک کئی ایک احمدی زمینداران زمینوں پر آباد ہیں۔یعین مہاتمہ احمدی احباب کے پاکستان میں رشتہ دار تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ آباد کاری ہیں وہ ان کو مدد دے سکیں گے ان کی خواہش پہ ان کے رشتہ داروں کے پاس پہنچانے کا انتظام کر دیا جاتا۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور حضور رضی اللہ عنہ کی دعاؤں کا نتیجہ تھا کہ لاکھوں کی