تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 88
ایک جگہ مسلمانوں کے پاس ہوائی جہانہ تھا۔جب تار ٹیلیفون اور ریل بند کر دیئے گئے اور مسلمان دوسری دنیا سے کٹ کر رہ گئے تو بعض مسلمان دیہات نے درخواست کی کہ ایک وقعہ ہوائی جہانہ ہمارے سروں پر چکہ لگا جایا کرے تاکہ ہمیں معلوم تو رہے کہ باہر کے مسلمانوں کو ہمارا حال معلوم ہے اور ہمیں اس ہوائی جہاز سے یہ معلوم ہو جائے گا کہ ہمارے گاؤں سے پہنے بھی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی نام لیوا اب تک زندہ ہے۔باوجود مشکلات کے ہوائی جہانہ نے چکر لگا کہ علاقہ کے مسلمانوں کا حال دیکھنا شروع کیا۔کئی جگہ وقت پر حملہ کی اطلاع ملٹری کو کی بھو شریف ہونے کی صورت میں بعض دفعہ مدد بھی پہنچا دیتی تھی ورنہ خاموش رہتی تھی۔سڑکوں پر جو مجھے جمع ہوتے تھے ہوائی جہانہ کے ذریعے اُن کا حال معلوم ہو جاتا تھا اور پتہ لگ جاتا تھا کہ حملے کا کہاں ارادہ ہے۔مگر جب یہ دیکھا گیا کہ اس دفاعی تدبیر سے مسلمانوں کے قتل عام میں کمی آنے کا امکان ہے فوراً یہ الزام لگا دیا گیا کہ اس جہاز نے نیچے اُتر کر فائر کئے ہیں۔مگر ستم یہ ہے کہ الزام یہ نہیں کہ پولیس پر فائدہ کئے۔یہ بھی نہیں کہ پُر امن شہریوں پر کئے بلکہ یہ الزام ہے کہ اس جہاز نے اتر کہ ایک ایسے سکھ جتھے پر فائر کئے جو مسلمان گاؤں کی طرف حملہ آور تھا۔گو یہ بات جھوٹ ہے اگر سیتھی بھی ہوتی تو اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ چونکہ اس طرح مظلوم مسلمانوں کی حفاظت کی گئی اس لئے اب جہاز والے کو سزا ملنی چاہئیے۔چنانچہ سیفٹی ایکٹ کے ماتحت حکم دے دیا گیا کہ گورداسپور کے ضلعے کے تمام پرائیویٹ ہوائی جہاز ضبط کر لئے جائیں اور جو اس ضلع پر اڑان کرے اُسے گولی سے اُڑا دیا جائے۔اس علاقہ کے ملاپ اور تعلقات کو دوسرے علاقوں سے قطعی طور پر کاٹنے کا یہ آخری حربہ ہے۔اس کے بعد اللہ جانے کہ باقی مسلمانوں کا کیا حشر ہے۔آپ لوگوں کو صبر سے کام لینا چاہیے۔کیونکہ اگر آپ نے خونریزی کی تو مسلمانوں پر اور بھی علم ہو گا لیکن حکومت پاکستان پر یہ زور ضرور دینا چاہیئے کہ وہ ہوائی جہاز کے ذریعے سے ان علاقوں سے تعلقات پیدا کرے اور ہر روز اس کے ہوائی جہانہ امرتسر گورداسپور ، جالندھر، ہوشیار پور، لدھیانہ اور فیروز پور میں ہر اس قصبہ میں جس کی آبادی چھ سات ہزار ہو اُتر کر وہاں کے حالات معلوم کر کے آیا کرے۔صرف یہی طریقہ ان علاقوں