تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 87 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 87

شاید آپ کہیں کہ باقی علاقہ کے مسلمان کیوں مدد نہیں کرتے۔اس کا جواب یہ ہے کہ کہ ہر سکھ گاؤں نے سڑکوں کے ناکے روکے ہوئے ہیں اور ادھر سے اُدھر کسی مسلمان کو نہیں جانے دیتے۔جو ظاہر میں جائے اسے زبر دستی واپس کر دیتے ہیں۔جو چھپ کر بجائے اسے موقع ملے تو مار دیتے ہیں۔اگر کوئی بھی نکلے تو پولیس میں رپورٹ کرتے ہیں کہ فلاں فلاں ہمیں ٹوٹنے آئے تھے۔اور پولیس یہ جاننے کے باوجود بھی کہ مارے مسلمان بھا رہے ہیں ان کی شکایت کا پیچھا کرتی ہے۔اگر مسلمان اکٹھے ہو کر نکلیں تو سیفٹی ایکٹ کے ماتحت انہیں شوٹ کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ایک گاؤں کے نام معلوم ہے، لوگوں کو سکھوں نے لوٹا۔وہ (زیادہ تر بچے اور عورتیں) بھاگ کر کچھ زیور اور نقدی لے کو ایک دوسرے مسلمان گاؤں (نام معلوم ہے) کی طرف روانہ ہوئے۔راستے میں ایک سکھ گاؤں تھا۔انہوں نے اس عورتوں بچوں کے قافلہ پر جملہ کیا اور ۲۵ ہزار کے زیورات (یہ مسافر تاجر تھے، بہت سے کپڑے اور ایک نوجوان عورت لے کر بھاگ گئے جس مسلمان گاؤں کی طرف یہ مسلمان آرہے تھے ان کے پاس صرف ایک بندوق تھی خبر ملنے پر تین آدمی وہاں سے بھاگ کو پہنچے اور ڈیڑھ سو حملہ آوروں کے سامنے ہو گئے جس پر سکھ بھاگے اور اس طرح عورتیں اور کپڑے مزید ٹوٹ سے بچ گئے۔مگر ایک عورت اور نقدی زیور کو لے کر وہ فرار ہو گئے۔ان تینوں نے پیچھا کیا اور عورت کو بچھڑا لائے۔مگر روپیہ زیور واپس نہ لا سکے۔ملٹری ایک میل پر تھی۔جب وہ گاؤں پر پہنچی تو مسلمان دوڑ کر اس کے پاس شکایت کرنے کے لئے گئے۔افسر نے آگے سے یہ ہمدردی کی کہ جھڑک کر کہا۔تم چار افراد سے زیادہ ہو اس دفعہ تو چھوڑ دیا ہے پھر کبھی ایسا ہوا تو فورا گولی مار دی جائیگی۔ایک گاؤں پر ۲۴ گھنٹے حملہ رہا۔دو دفعہ تو سکھ جبھہ کو مسلمانوں نے بھگا دیا۔پولیس ماشہ دیکھ رہی تھی۔دو دفعہ جب جبھہ کو دبا کر مسلمان آگے بڑھے تو پولیس نے ان پر فائر گئے اور مار کر بستی میں چھکیل دیا۔۲۴ گھنٹوں کے بعد مسلمانوں کا بارود ختم ہو گیا تو گاؤں چلایا گیا اور ۴۵ مرد عورت بیچتے مارے گئے۔ایک درجن سے زیادہ عورتیں اغوا کی گئیں اور قصبہ ٹوٹا گیا۔