تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 89 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 89

میں امن قائم کرنے کا ہے۔تقریروں سے کچھ نہیں بنے گا جب تک مشرقی پنجاب کے غیر مسلم اور اس علاقہ کی حکومت پر محسوس نہ کریں گے کہ ان کی ایک ایک کر توت مغربی پنجاب کے لوگوں تک پہنچ رہی ہے۔جب تک انہیں یہ معلوم نہ ہو کہ ضرورت کے موقع پر مسلمان ہوائی جہازوں سے بھی مسلمان بھائیوں کا حال دیکھنے کے لئے پہنچے بھائیں گے اس وقت تک نہ مظلوم مسلمانوں کا ڈر کم ہوگا اور نہ دشمن کی دلیری دوسری تدبیر یہ ہے کہ مشرقی پنجاب کے ہر ضلعے اور تحصیل میں مسلمان افسر مناسب تعداد میں بھیجوائے بھائیں۔اس کے بدلہ میں اتنی ہی پولیس اور اتنے ہی افسر مغرب میں غیر مسلموں کے لئے لئے جائیں۔مگر یہ کام فوری ہے۔اس کے بعد سب علاج بیکارہ ہو جائیں گے۔سکوٹری انجمن انصار المسلمین لاہور مُسلمانان پاکستان میں اتحا ا ا ا ا ا پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے ساتھ ہی مسلمان پاکستان ہزاروں بیرونی اور اندرونی مشکلات میں قربانی کی روح پیدا کرنے کی تحریک کر گئے تھے جن سے بیٹنے کے لئے اتحاد تنظیم اور قربانی کی رُوح کا پیدا کیا جانا ضروری تھا۔اخبار الفضل نے (جس کے بنیادی اغراض و مقاصد میں پاکستان کا استحکام سر فہرست شامل تھا، اس نازک مرحلہ پر مسلمانان پاکستان کو انتباہ کرتے ہوئے صاف صاف لکھا کہ یہ عجیب مصیبت ہے جو اس وقت ہندوستان کے مسلمانوں پر نازل ہوئی ہے اور فرا جانے کب تک جاری رہے گی۔سوال یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں مسلمانوں کو کیا کہنا چاہے ہم پہلے ہی صاف صاف کہہ دیتے ہیں کہ اس مصیبت کا ہرگز یہ علاج نہیں ہے کہ مسلمان بھی پاکستان میں وہی کریں جو مہندوستان مسلمانوں کے ساتھ کر رہا ہے اور ہمیں افسوس ہے کہ مغربی پنجاب میں بھی کئی جگہوں پر اس کا رد عمل نظر آیا ہے اور پاکستان کے مسلمان بھی اس کو میں بہتے چلے جاتے ہیں۔لیکن ہماری رائے میں پاکستان کے مسلمانوں کو صرف دیتی نقطہ نظر سے ہی نہیں بلکہ مصلحت وقت کے لحاظ سے بھی کوئی ایسے عقلمندانہ طریقے اختیار کرنے چاہئیں کہ جن سے ہندوستانی حکومت کو آمادہ کیا جا سکے کہ وہ ہندوستان