تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 31 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 31

کہا جا سکتا ہے اور نگرانی اور آزادی کے اس طاپ کو پا لینا جو ان کی اخلاقی زندگی کو ہمیشہ کے لئے بنا دینے والا ہو ناممکن تو نہیں مگر بہت مشکل ضرور ہے اور ہم حضور ہی سے دھا اور رہنمائی کی درخواست کرتے ہیں۔فٹ بال، ہاکی ، کرکٹ انگریزوں کی قومی کھیلیں ہیں اور چونکہ آجکل انگریز ہم پر حاکم ہیں ، اس لئے ہندوستان میں عام طور پر پر خیال پایا جاتا ہے کہ جب تک تعلیمی اداروں میں ان کھیلوں کو رائج نہ کیا جائے اس وقت تک ہمارے نوجوانوں کی ذہنی و جسمانی صحت کو قائم نہیں رکھا جا سکتا۔اس کے برعکس وہ تمام تو میں جو انگریز یا انگریزی خون سے تعلق رکھنے والی ہیں ان کھیلوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتیں اور ان کی زیادہ تر توجہ 5 ATHLETIC کی طرف ہے اور اس و جبر سے ان قوموں کے طلبہ کی صحتوں پر کوئی برا اثر نظر نہیں آتا۔ہمارا ارادہ بھی ATHLETICS کی طرف زیادہ توجہ دینے کا ہے۔مگر چونکہ بہر حال ہم ہندوستان کے رہنے والے ہیں اور تمہارے ملک کی ساری تعلیمی درسگاہیں ہاکی ، فٹ بال وغیرہ پر زور دیتی ہیں اس لئے حضور کی ہدایت کی ضرورت ہے کہ کیا ہم ہاکی فٹ بال وغیرہ کو کلیتہ ترک کر دیں یا انہیں بھاری تو رکھیں مگر زیادہ اہمیت نہ دیں۔میرے علم میں ان کھیلوں کو ترک کر دینے پر یونیورسٹی یا محکمہ تعلیم کو کوئی الہ امن نہ ہو گا۔دنیا کی بہت سی درسگاہیں اساتذہ اور طلبہ کے لئے کسی خاص لباس کی تعیین کر دیتی ہیں۔اور تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں میں بھی یہ رواج رہا ہے۔اس سے یہ زائدہ کامل ہوتا ہے کہ طلبہ کی اخلاقی نگرانی زیادہ آسانی سے کی جا سکتی ہے اور ڈسپلن کا قیام بہتر طریق پر ہوتا ہے اگر حضور اسے پسند فرمائیں تو ہمارے لئے بھی کوئی لباس مثلاً کسی خاص قسم کی اچکن اور سنوار مقرر فرمائیں۔طلبہ میں تعلیمی دلچسپی بڑھانے کے لئے مختلف سوسائیٹیز کے قیام کا ارادہ ہے۔مثلاً (۱) تریک سوسائٹی (۲) پرشین سوسائٹی (۳) فلوس افیکل سوسائٹی (۴) پیجیس ریسرچ سوسائٹی