تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 32 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 32

۳۲ (۵) اکنامکس سوسائٹی اور (۶) کالج بزی من بیان عام طور پر کالج یونین میں طلبہ کی قوت بیان کو بڑھانے کے لئے DEBATES کا طریقہ رائج ہے۔مگر یہ طریق ہمارے ہاں پسندیدہ نہیں۔اس لئے انشاء اللہ العزیزہ ہم کالج کی سید حسن بیان میں DEBATES کے طریق کو ترک کر کے تقریر کے طریق کو رائج کریں گے اور امید ہے کہ ہمارے طلبہ تقریر کے میدان میں محض اس طریق کی وجہ سے دوسروں سے پیچھے نہ رہیں گے۔نئے سے نئے تعلیمی طریقے اور سکیمیں جن میں سے جدید ترین مسٹر جان سارجنٹ کی رپورٹ ہے پہلک کے سامنے آتے رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارا رائج الوقت طریقہ تعلیم تسلی بخش نہیں اور اس امر کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے کہ اس کی بجائے کوئی بہتر طریقہ تعلیم رائج کیا جائے۔ایک نئی یو نیورسٹی ہی کسی نئی سکیم کو رائج کر سکتی ہے اور کوئی کالج جو ایک غیر یونیورسٹی کے ساتھ الحاق رکھتا ہو کسی نئی سکیم کو رائج نہیں کر سکتا۔پس ہمارے لئے یہ تو ممکن نہیں کہ ہم پنجاب یونیورسٹی کی پالیسی کو چھوڑ کر کسی نئے طریقہ تعلیم کو اپنے کالج میں رائج کریں لیکن ایک غیر یونیورسٹی کے ساتھ الحاق رکھتے ہوئے اور اس کی پالیسی کو اختیار کرتے ہوئے بھی یہ ممکن ہے کہ بعض ایسے ذرائع اختیار کئے جائیں جو طلبہ کی ذہنی نشو و نما میں زیادہ محمد ثابت ہوں مثلاً RESIDENTIAL یونیورسٹیز کی امتیازی خصوصیت طلبہ پر انفرادی توجہ دینی ہے۔ہمارا ارادہ ہے کہ ہم ان تمام ذرائع کو استعمال کر کے طلبہ کے فطری قومی کو صحیح نشو و نما دینے کی کوشش کریں گے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضور کی دُعاؤں اور رہنمائی کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔ہم اساتذہ تعلیم الاسلام کالج قادیان “ تر امیر المومنین الصلح الموعود کا رپورٹیں پڑھی جا چکیں تو حضرت امیر المومنین الصلح الموعود کھڑے ہوئے اور تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد ایک علم و معرفت سے لبریز خطاب نہایت پُر از علم و معرفت تقریر فرمائی جس میں کالج کے قیام کی اغراض بیان کر کے پر وفسیروں اور طالب علموں دونوں کو نہایت اہم اور قیمتی ہدایات دیں۔اس ایمان له الفضل " قادیان ، احسان رجون ۱۳۲۳ پیش صفحه ۳ و ۰۴