تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 744 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 744

ہو گیا ہے۔یہی ان لوگوں کا منشار تھا۔یہ حالت اس طرح پیدا ہوئی ہے۔الف۔فوراً ہی سب مسلمان پولیس واپس چلی گئی۔ب:۔ملٹری بھی ہندو لگائی گئی۔ج افر مسلمان سب پہلے گئے۔د گاڑیاں ، تار ، ڈاک بند ہو گئے۔عوام نے سمجھا۔ہمیں بند کر کے مارنے لگے ہیں۔اس لئے بھا گھر سکھوں نے پراپیگنڈا کیا کہ اب یا سکھ ہونا پڑے گا یا ملک چھوڑنا پڑے گا مسلمانوں نے گاؤں چھوڑا تو گاؤں چلا دیئے۔اب واپس بھی نہیں جا سکتے۔د مغربی و مشرقی حکومتوں کی طرف سے پے در پے اعلان ہونے کہ تبادلہ آبادی کا انتظام کیا جا رہا ہے اس سے لوگ بالکل ہی دل ہار بیٹھے اور اب تو بزدلی کی یہ حالت ہے کہ ایک سکھ نیزہ والا نظر آجائے بیوڑھا جسکی دے دے تو سارا گاؤں گاؤں خالی کر کے بھاگ پڑتا ہے فلم بھی بے انتہا کیا ہے ، بوڑھے، بچے، عورتیں اس قدر مارے گئے ہیں کہ الامان ! یہ لوگ دوسری جگہ جاتے ہیں تو اپنی داستانوں سے اور لوگوں کے حوصلے پست ہوتے ہیں۔آپ انتظام کرنے آئے ہیں۔خدا کرے کامیاب ہوں۔مگر اسلام اور مسلمانوں کی مدد کرنی ہے تو اسی طرح اسلام کی بے حرمتی کو روکئے سکھوں کے آگے سے محمد رسول اللہ کے کے نام لیوا بھاگے جا رہے ہیں۔اس سے دل سخت دکھی ہوتا ہے۔ترکیب یہ ہے کہ فوراً تار ، ڈاک اور ریل کے جاری کرنے پر زور دیجئے۔یہ روک مشرقی پنجاب کی طرف سے ہے۔اور مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے۔۲- اول تو سارے مشرقی پنجاب کے متعلق کہ دیجئے کہ اپنی اپنی جگہ مسلمانوں کو بساؤ ہم مہنداور کو بائیں گے۔نہ اُن کو اُدھر جانے دیں گے نہ ان کو ادھر آنے دیں گے۔ہم ان لوگوں کو بے وطن نہیں کرنا چاہتے۔اگر دوسری جگہ کے مسلمان ایسا نہیں کر سکتے تو گورداسپور کے متعلق ضرور ہی زور دیں۔اس سے مسلمان بھی کچھ ٹھہر نے لنگ بھائیں گے۔میں نے دیکھا ہے۔پناہ گزینوں کے نکالنے میں ہندو سکھ افسر ایسی بھی پی لیتے تھے کہ صاف معلوم ہوتا تھا کہ اس میں وہ اپنا فائدہ سمجھتے ہیں۔