تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 743 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 743

سے بذریعہ ہوائی جہاز کل یہاں پہنچے تاکہ مرکز سے متعلقہ خبریں جماعت کلکتہ کو بھیجیں اس کے بعد کلکتہ بمبئی کراچی اور حیدر آباد کی جماعتوں کے پتے درج کئے گئے ؟ صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب ۱۳۱ اگست ۱۹۴۷ کو بذریعہ ہوائی جہاز لا ہور تشریف لے آئے تو دھلی کی مجلس خدام الاحمدیہ کے سکوڈی رشید احمد ملک نے یہ ڈیوٹی اپنے ذمہ لے لی کہ وہ ہندوستان کی جماعتوں کو مرکزی اطلاعات سے ضرور باخبر رکھیں گے اور متعدد سرکلر بھجوائے۔غرض کہ قادیان کی مقدس نیستی ریڈ کلف ایوارڈ کے فیصلہ سے قبل ہی ہاتی دنیا سے منقطع ہو چکی تھی مگر اس کے فدائی اور شیدائی اس صورت حال کو نہایت اضطراب کی نظر سے دیکھتے ہوئے ہر اس ممکن کوشش میں مصروف تھے کہ ہمیں اپنے محبوب آقا اور محبوب مرکز کے حالات کا علم ہو جائے۔پریس میں مسٹر غضنفر علی خان وزیر خوراک پاکستان کے بیشر الام وایی شیخ بشیر احمد احد کے ہم پہلا اہم منصوب متقی پر خیر کی ہوئی کہ آپ ۳ را گست سر کو یہ شائع کراچی سے لاہور آرہے ہیں اور وہ جالندھر میں پنڈت جواہری نہرو وزیر اعظم بھارت سے مشرقی پنجاب کے فسادات کے سلسلہ میں مشورہ کریں گے نیز شائع ہوا کہ دونوں اصحاب نے مشرقی پنجاب میں قیام امن کا کام اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور وہ فساد زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے اور اس وقت تک واپس نہیں بھائیں گے جب تک امن قائم نہیں ہو جاتا۔ہے سیدنا حضرت المصلح الموعود نے اس اطلاع پر شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ لاہور کے نام اپنے قلم مبارک سے مندرجہ ذیل مکتوب تقریر فرمایا :- " مگر می شیخ بشیر احمد صاحب السلام عليكم ورحمة الله وبركاته یار بار باتیں لکھی جاتی ہیں۔ایسا نہ ہو مشوش ہو جائیں۔ایک کاپی بنا کر اس پر لکھوا لیا کریں۔کراچی سے راجہ غضنفر علی آ رہے ہیں ان سے ضرور مل کر مندرجہ ذیل باتیں کریں :۔سارے مشرقی پنجاب میں صرف گورداسپور یہی مسلم اکثریت کا ضلع ہے اس لئے اسے تباہ کرنے کی طرف سیکھ لگ گئے ہیں اور اس وقت تک پچاس ہزار آدمی بھاگ ہوچکا ہے۔اور عملاً یہ ضلع اقلیت کا " الفصل" با ظهور/ اگست پیش صفر کم کالم عنه 1974