تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 745
-4 فوراً ایک دو ہزارہ پولیس کا مسلمان فارغ کر کے ادھر بھیجوائیے اور زور دیجئے کہ فورا مسلمان علاقوں میں پھیلا دیں۔اتنا ہی ہندو اپنی طرف لے کر سہندوؤں کے علاقے میں لگا دیں۔ٹری اس وقت خطرہ کا موجب بن رہی ہے۔فوراً مسلمان مری خواہ یا ہو پر زور دیجئے نیز اس پر کہ افسر غیر مسلم ہو تو نائب مسلمان ہو۔نائب غیر مسلم ہو تو افسر مسلمان ہو ہوائی جہازوں کی سہولت پیدا کی جائے تا ادھر ادھر لوگ جا سکیں۔- آپ گورداسپور میں ضرور آئیں۔قادیان بھی ہو سکے تو ، ورنہ گورداسپور بٹالہ ضرور ، تا یہ اکثریت کا ضلع اقلیت کا نہ ہو جائے۔والسلام مایلی خاکسار مرزا محمو د احمد شاه ۲۳ اگست کو قادیان سے شمالی جانب احمدی گاؤں فیض اللہ چک پر فیض اللہ چاک پر حملہ ہزاروں سے سکھوں نے پولیس اور لٹری کی موجودگی میں حملہ کیا جس میں بہت سے احمدی اور غیر احمدی شہید ہوئے اور کئی مسلمان عورتیں اغوا کرلی گئیں اور سارا گاؤں معدہ ملحقہ دیہات کے خالی کرا لیا گیا اور ایک احمدی جو فیض اللہ چک کی خیریت دریافت کرنے کے لئے موٹر پر جا رہا تھا اس کے ڈرائیور کو گولی کو زخمی کر کے موٹر ضبط کر لی گئی۔اس سانحہ ہو شریا کے معاً بعد حضرت مصلح موعود شیخ بشیر احمد صاحہ کے اہم دوسرا اہم مکتوب نے شیخ بشیر احمد صاحب کے ہم حسب ذیل بشیراحمداح کے دوسرا کمکتوب تخریبہ فرمایا :- کمر می شیخ صاحب السلام عليكم ورحمة الله وبركاته کل رات سے فیض اللہ چک احمد می گاؤں پر حملہ ہوا۔دو دفعہ وہ لوگ پسپا ہوئے۔مگر پھر پولیس کی مدد سے جو جب بھی فیض اللہ چک کو غلبہ ملتا سکتھوں کی مدد کرتی۔آخر گل قصبہ تباہ ہوا ہے دی مارے گئے۔دو ہزار پناہ گزین قادیان رات کو آیا ہے۔اس وقت قادیان کی حالت بالکل لے مسٹر غضنفر علی خان ۲۴ اگست کو لاہور میں پہنچے اور آپ نے مشرقی پنجاب کی صورت حال کی نسبت وزرائے مغربی پنجاب سے طویل طاقات کی اور قائد اعظم محمد علی جناح حکم کی مطابق اہم ہدایات دیں ؟