تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 730 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 730

47 ۱۴ را گست ۶ مہ کو ہندوستان انگریزی اقتدار سے پر پاکستان اور بھارت کے قیام کیہ آواہ ہو کہ پاکستان اور بھارت کی دو آزاد حکومتوں میں آزاد حضرت سید نا الصلح الموعود کی دعا تقسیم ہو گیا اور ساتھ ہی وسطی پنجاب میں خونریز فسادات شروع ہو گئے حضرت سیدنا المصلح الموعود نے آزادی کے دوسر کروز ها را گست (ظہور) کو خطبہ جمعہ میں اس تغیر تعظیم کا ذکر کرتے ہوئے پہلے تو مشرقی پنجاب میں قتل و غارت اور فساد یہ نہایت درجہ غم و اندوہ کا اظہار کیا اور فرمایا :- مد اس آزادی کے ساتھ ساتھ خونریزی اور تکلم کے آثار بھی نظر آتے ہیں خصوصاً ان علاقوں میں جن کے ہم باشندے ہیں۔وسطی پنجاب اس وقت لڑائی جھگڑے اور فساد کا مرکز بنا ہوا ہے ان فسادات کے متعلق روزانہ جو خبریں آرہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ سینکڑوں آدمی روزانہ موت کے گھاٹ اُتارے بجا رہے ہیں اور ایک بڑی جنگ میں جتنے آدمی روزانہ مارے جاتے تھے اتنے آجکل اس چھوٹے سے علاقہ میں قتل ہو رہے ہیں اور ایک بھائی دوسرے بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے۔پس ان حالات کے ماتحت جیسے عید کے دن اس عورت کے دل میں خوشی نہیں ہو سکتی جس کے اکلوتے بچے کی لاش اس کے گھر میں پڑی ہوئی ہے اور جیسے کسی قومی فتح کے دن ان لوگوں کے دل فتح کی خوشی میں شامل نہیں ہو سکتے جن کی نسل فتح سے پیشتر اس لڑائی میں ماری گئی۔اسی طرح آج ہندوستان کا سمجھ دار طبقہ با وجود خدا تعالے کا شکر ادا کرنے کے اپنے دل میں پوری طرح خوش نہیں ہو سکتا " اس اظہار تاسف کے بعد حضور نے فرمایا :- ید دو حکومتیں جو آج قائم ہوئی ہیں ہمیں ان دو نو سے ہی تعلق ہے کیونکہ مذہبی جماعتیں کسی ایک ملک یا حکومت سے وابستہ نہیں ہوتیں۔ہماری جماعت کے افراد پاکستان میں بھی ہیں اور ہماری جماعت کے افراد انڈیا میں بھی ہیں۔۔۔۔گو ہماری جماعت کے افراد پہلے بھی غیر ملکوں میں رہتے تھے مگر وہ تو پہلے ہی ہم سے الگ رہتے تھے۔مگر اب ہو ہمارے بھائی ہم سے الگ ہو رہے ہیں وہ ایک عرصہ سے اکٹھے رہتے آرہے تھے۔اب ہم ایک دوسرے سے اس طرح ملا کریں گے جیسے غیر ملکی لوگ آپس میں ملتے ہیں۔