تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 727 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 727

410 صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ پناہ گزینوں کی داستانیں سن کر یہاں کوئی فساد ہی نہ ہو جائے حضرت صاحبزادہ صاحب کی اس وفد سے کیا گفتگو ہوئی اس کی تفصیل آپ نے وفد کے بھانے کے معا بعد حضرت مصلح موعود کی خدمت میں بھیجوا دی جو مندرجہ ذیل الفاظ میں تھی :- بھی ابھی قادیان کے ہندوؤں اور سکھوں کا ونقد مجھے بل کر گیا ہے۔یہ لوگ بہت گھبرائے ہوئے تھے میں نے انہیں تسلی دلائی کہ جب حضرت صاحب اور ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ ہم کسی کے خلافت پیل نہیں کریں گے بلکہ اگر قادیان کے غیر مسلم ہمارے ساتھ وفادار رہیں گے تو اُن کی بھی حفاظت کریں گے تو گھبراہٹ کیسی ؟ انہوں نے کہا کہ حالات کی خرابی کے باعث ہم تسلی کیلئے دوبارہ ملنے آئے ہیں۔دوسری بات انہوں نے یہ کہی کہ قادیان میں با ہر سے بہت سے پناہگزین آرہے ہیں ہمیں ڈر ہے کہ اُن کی وجہ سے اور ان کی باتوں کوشن کر کوئی فساد کی صورت نہ پیدا ہو جائے۔میں نے کہا جہانتک احمدی پناہ گزینوں کا تعلق ہے وہ ہماری جماعت کا حصہ ہیں اور ہمارے نظام کے ماتحت ہیں۔باقی رہے غیر احمدی پناہ گزین تو وہ تو خود بیچارے مسلموں سے بھاگے ہوئے ہیں اُن سے کسی کو کیا ڈر ہو سکتا ہے ؟ اور ہم نے اُن کے انتظام کے لئے پہلے سے ایک افسر مقر کر دیا ہے تا کہ ایک طرف انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ ہو اور دوسری طرفت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ان کی وجہ سے اشتعال کی صورت نہ پیدا ہو۔ہر حال یہ وقد تستی پاکر گیا ہے اور یہ بھی کہ کر گیا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہر طرح و فادار رہیں گے علاقہ بھر میں سخت ابتری اور افراتفری میبی گورداسپور کے مسلمانوں کا وصلہ بلند رکھنے کی جدوجہد ہوئی تھی۔ان حالات میں ضرورت اس بات کی تھی کہ ضلع گورداسپور اور بالخصوص قادیان کے ارد گرد کے علاقہ میں مسلمانوں کے حوصلے بلند رکھے جھائیں اور انہیں آنے والے حالات میں ثابت قدم رہنے اور اپنے اندر تنظیم اور یک جہتی پیدا کرنے کی تلقین کی جائے۔اس اہم ملی تقاضا کے پیش نظر اگست کے وسط میں کئی ایسی پارٹیاں ارد گرد کے علم میں بھجوائی گئیں۔اس سلسلہ میں پہلی پارٹی موضع تلونڈی جھنگلاں میں بھیجی گئی۔موضع تلونڈی قادیان سے شمال مغربی جانب پانچ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔یہاں اکثریت احمدیوں کی تھی سولہ گھر سکھوں اور