تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 728
اله بلیس کے قریب مہتروں کے تھے کل آبادی دو ہزار کے قریب تھی۔گڑ بڑ کے دنوں میں ہی تین ہزار مسلمان پناہ گزین ہو کر یہاں آگئے تھے۔جب ہنگامے اُٹھنا شروع ہوئے تو تلونڈی کے باشندوں کی درخواست پر قادیان سے ۱۵ را گست ۹ہ کو چودہ نوجوان بھیجوائے گئے اور انہیں کھلے لفظوں میں ہدایت کی گئی کہ اُن کا مقصد مسلمانوں کے حوصلہ کو بلند رکھنا اور ان کی تنظیم کرنا ہے۔۱۴ دوسری پارٹی وار اگست شہر کو آٹھ بجے شام جو بارہ افراد پرمشتمل تھی، کڑی ، بھیٹ ، پیری وغیر مسلمان علاقوں کی طرف بھیجوائی گئی۔جب یہ پارٹی روانہ ہوئی تو رات سخت اندھیری اور تاریک تھی اور بارش ہونے کے باعث دلدل کا یہ حال تھا کہ ایک ایک فٹ تک پاؤں دھنستے بھاتے تھے مگر یہ پارٹی حکم کی تعمیل میں آگے ہی آگے بڑھتی چلی گئی۔کڑی ، بھیٹ کے تین مسلمان گھڑ سوار پارٹی کی راہ نمائی کہ رہے تھے اور پارٹی پیدل جا رہی تھی۔خدا خدا کر کے دو بجے شب کڑی ، بھیٹ کی زمین نظر آئی جہاں دوسرے دن صبح گاؤں کے معتبر افراد کو اکٹھا کیا گیا اور انہیں خود حفاظتی کی نہایت موثر رنگ میں تلقین کی گئی مگر انہوں نے کہا کہ سکھوں کے ساتھ ہمارے پرانے تعلقات ہیں اُن سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے شام کو پارٹی بیری وغیرہ کی طرف روانہ ہونے لگی تو بھیٹ والوں نے ان کا راستہ روک لیا اور اُنھیں نہایت بھولے پن سے یہ مشورہ دیا کہ آج کی بجائے صبح پہلے جانا۔پارٹی نے اپنا ارادہ صبح پر ملتوی کر دیا۔اور سمجھا کہ شاید انہیں ہماری گذارشات کے متعلق کچھ احساس پیدا ہو گیا ہے مگر اُن کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب انہوں نے اُن کی زبان سے یہ بات سنی کہ ہم اپنے گاؤں کے کمی چوہڑے آپ کے ساتھ بھیج رہے ہیں تا آپ راستہ میں سکھ دیہات پر حملہ کر کے انہیں بھگا دیں اور ہمارے مسلمان بھائی گندم کی ٹوٹ سے فیض یاب ہو سکیں۔پارٹی کے افراد نے جھنجلا کر کہا کہ ایسا کرنا شرافت کے صریح خلاف ہے اور یہ کہہ کر ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا اور دوسر سے دن علی الصبح ۵ بجے بیری کی طرف روانہ ہو پڑے۔راستہ میں اولکھ اور سونچ (دو سیکھ دیہات میں یہ عجیب خبر مشہور ہو گئی کہ کوئی جمعتہ آرہا ہے میں پر اورلکھ وغیرہ کے سکھوں نے بیری کے مسلمان نمبر دار اور دو تین معتبرین کو اپنے پاس بلا کہ اصل کیفیت پوچھی۔اُن میں سے ایک مسلمان نے جواب دیا کہ یہ قادیان والے ہیں جو عوام کو مچھر امن طور پہ رہنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ان کا قیام میرے ہاں ہے اس لئے آپ کو کسی قسم کا فکر نہ کرنا چا ہیئے۔یہ سُن کر سکھوں نے جواب دیا کہ ٹھیک ہے اگر قادیان والے ہیں تو وہ یہاں رہیں ان سے کسی قسم کی خرابی کی ہرگز کوئی توقع نہیں ہو