تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 726
کے حضور گریہ وزاری کریں ، اکیلے بھی اور مشترکہ طور پر بھی۔اسی طرح عورتوں کو چاہیے کہ وہ گھروں میں بیٹھ کر دعائیں کریں اور اتنی تضرع اور گریہ وزاری سے دعائیں کریں کہ خدا تعالے کا عرش ہل جائے۔بلکہ یونس نہی کی قوم کی طرح اگر وہ اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھوکا رکھ کر انہیں بھی دعاؤں میں شامل کر لیں تو یہ بھی کوئی بڑی قربانی نہیں ہو گی۔ہمارے خدا میں سب طاقتیں ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ ہو گا آخر سلسلہ کے لئے بہتر ہوگا۔لیکن آخر سلسلہ کے لئے بہتر ہوگا اور اب بہتر ہو جائے، اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔آخر میں تو ضرور ایسا ہوگا کہ ہمارے سلسلہ کو کامیابی حاصل ہو۔لیکن ہو سکتا ہے کہ بہاری غفلت اور کوتاہیوں کی وجہ سے درمیانی عرصہ میں ہزاروں بہانوں کو دُکھ برداشت کرنا پڑ سے اور ہزاروں عزتوں کو برباد کرنا پڑے اور ہزاروں نوجوانوں کو قربان ہونا پڑے۔پس دُعائیں کرو۔دعائیں کرو اور دعائیں کرو۔کیونکہ اس سے زیادہ دنیوی طور پر نازک وقت ہماری جماعت پر کبھی نہیں آیا۔خدا ہی ہے جو اس گھڑی کو ٹلا دے اور اپنے فضل سے ایسے راستے پیدا کر دے۔کہ جن سے جلد سے جلد ہماری کامیابی کی صورتیں پیدا ہونے لگ جائیں“ لے پناہگترین میں کی ر خون سانڈ کی سکیم کے مطابق ضلع گورداسپور مغربی امرت کے مسلمان پنا بگرین قادیان میں پنجاب پاکستان میں شامل کیا گیا تھا اسلئے یونہی میں اور اُن کے قیام و طعام کا مرکزی نظام مشرقی پنجاب کے دوسرے الطالع بینی اور ہوشیار پور لدھیانہ وغیرہ میں مسلمانوں پر منظم محملے شروع ہو گئے مسلمان اس ضلع میں پناہ گزین ہو گئے اور بالخصوص امرت سر کے پناہ گزینوں کی ایک ہائے تعداد بثالہ اور قادیان میں آپہنچی۔حضرت امیر المومنین الصلح الموعود نے ۲ ار است گرد کو مولانا جلال الدین صاحب شمت مبلغ بلاد عربیه و انگلستان کو انچارج مہاجرین مقر فرما دیا تا آنے والے مظلوم ، بے بس اور نہتے مسلمان بھائی کے کھانے اور رہائش کا بہتر انتظام کیا جا سکے۔الفضل " ال ظهور/ اگست سره مش صفحه ۲ تا ۳ ۹ + جب میت ۱۳ اگست ۱۹۴۷ء کو قادیان کے