تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 725 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 725

اگر ہم خدا تعالیٰ کے فضل کو نہ کھینچ سکیں تو ہم سے زیادہ بے یار و مددگار دنیا میں اور کوئی نہیں ہو گا۔محض عقلی دلائل پر انحصار رکھنا نادانی اور حماقت ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ عقلی طور پر ہماری بات معقول ہے اس لئے ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ ہماری بات مانی جائے گی۔لیکن ہیں دھینگا مشتی کے زمانہ میں عقل کو کون پوچھتا ہے۔اگر لوگ عقل کو پوچھتے تو آج خدا اور اس کا رسول سیکیسی کی حالت میں کیوں ہوتے۔اور اگر لوگ عقل کی بات کو پوچھتے تو آج محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی حکومت کی جگہ مشرکوں کی حکومت کیوں ہوتی ؟ تمہاری تائید میں جو دلائل ہیں ان سے بہت زیادہ دلائل قرآن کریم اور خدا تعالے کی تائید میں ہیں۔اسی طرح تمہارے تائیدی دلائل سے بہت زیادہ دلائل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں ہیں۔لیکن آج عقل کو کوئی نہیں پوچھتا۔آج لوگ لٹھ کو دیکھتے ہیں اور لٹھ تمہارے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔اس لئے تم خدا تعالیٰ سے دعائیں کرو۔خدا تعالٰی اگر آج بھی بچا ہے تو وہ آسمان سے صرف ایک کن کہہ کہ ساری دُنیا کے نقشوں کو بدل سکتا ہے۔اس لئے ہر شخص دُعاؤں میں مشغول ہو جائے۔خصوصاً پہلے ایک دو دن ایسے ہیں جن میں دُعاؤں کی زیادہ ضرورت ہے، آج یا کل یا بعد سے حد پر سون کا دن ایسا ہو گا جس میں فیصلے ہو جائیں گے اور خدا تعالے کی یہ سنت ہے کہ وہ ماضی میں تغیر نہیں کیا کرتا بلکہ مستقبل میں تغیر کرتا ہے۔ماضی کے متعلق تو وہ کہتا ہے کہ بعد و جہد کرو اور پھر ہم سے مدد طلب کرو اور آئی ہوئی چیز کے بدلنے میں خدا تعالے کا قانون جو وقت بچا ہتا ہے وہ ضرور لگتا ہے۔پس خدا جانے اس پر کتنا وقت لگے اور کتنی تکلیفوں میں سے ہمیں گزرنا ہے لیکن نہیں اپنی تکلیفوں کا بھی اتنا احساس نہیں جتنا سلسلہ کی تکالیف کا احساس ہے۔اگر ہماری زندگیوں کا ہی سوال ہوتا تو ہم میں سے بہت سے اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی جانیں پیش کر دیتے اور کہتے کہ ہماری جانیں اس غرض کے لئے حاضر ہیں لیکن یہاں جانوں کا سوال نہیں بلکہ سلسلہ کی عزت کا سوال ہے۔میں نے اس دفعہ مصلحتنا عورتوں کو اعتکاف بیٹھنے سے منع کر دیا ہے کیونکہ ہم لہنگا می کاموں میں بہت زیادہ مصروف ہونے کی وجہ سے ان کی حفاظت کا صحیح طور پر انتظام نہیں کر سکتے۔لیکن مردوں میں سے جو بڑی عمر کے ہیں انہیں چاہئیے کہ اگر ہو سکے تو ساری ساری رات بھا گئیں اور خدا تعالے ¦