تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 724
اول رضی اللہ عنہ کے عقیدہ کی رو سے اعتکاف صبح سے شروع ہو چکا ہے لیکن عام صنفی عقیدہ کی رو سے جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی عمل تھا۔اعتکالت آج شام کو شروع ہوگا۔جہاں تک نو جوانوں کا تعلق ہے جن کو آج کل کام پر لگایا جانا ضروری ہے اُن کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس دفعہ اعتکان نہ بیٹھیں۔ان کا اعتکاف نہ بیٹھنا زیادہ ثواب کا موجب ہوگا به نسبت اعتکاف بیٹھنے کے۔ایک دفعہ جہاد کے موقعہ پر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آج روزہ داروں سے بے روز بڑھ گئے ہیں کیونکہ بے روز تو میدان جہاد میں پہنچتے ہی کام کرنے لگ گئے اور روزہ دار لیٹ کر ہانپنے لگے۔آجکل پہرے کے دن اور ادھر اُدھر گھومنے کے ایام ہیں۔اس لئے ان دنوں نوجوانوں کا اور نوجوانوں کی طرح کام کر سکنے والوں کا اعتکاف نہ بیٹھنا بہ نسبت اعتکاف بیٹھنے کے زیادہ ثواب کا موجب ہے۔پس ایسے لوگوں کو جن کی مسلسلہ کو ہنگامی کاموں کے لئے ضرورت ہے اعتکات نہ بیٹھنا چاہئیے۔اگر وہ اعتکاف بیٹھیں گے تو یہ ان کی نیکی نہ ہوگی بلکہ ان کے نفس کا دھوکہ ہوگا لیکن جو لوگ اس عمر کے نہیں اور نوجوانوں کی طرح پہرہ وغیرہ کا کام نہیں کر سکتے ان سے میں کہتا ہوں کہ وہ بننے زیادہ اعتکاف میں بیٹھ سکیں اتنے ہی زیادہ بیٹھ جائیں۔اور کے اللہ تعالیٰ کے حضور اتنی دعائیں کریں اپنی دعائیں کریں کہ جیسے محاور میں کہتے ہیں اسے ناک رگڑے جائیں اور ان کے ماتھے ھیں جائیں تمہیں چاہیے کہ آج یونس نبی کی قوم کی طرح تمہارے بچے اور تمہاری عورتیں اور تمہارے نوجوان اور تمہارے بوڑھے سب کے سب خدا تعالیٰ کے سامنے روئیں تاکہ خدا تعالے ہماری جیت کو تباہی سے بچالے اور اپنے فضل سے ہماری دست گیری کرے۔دنیا میں ہر شخص کا کوئی نہ کوئی سفارش کرنے والا موجود ہے۔کسی کی تجارتیں اس کی سفارش کر رہی ہیں کسی کے نیک اس کی سفارش کی ہے میں کسی اعداد و شمار کی سفارش کر رہے ہیں لیکن اگر کوئی جماعت دین میں زدہ ہے کی سمت ہے اگر کوئی دنیا میں برا کام کر رہے ہودہ بابا ہے کہ تمہاری پشت پر کوئی نہیں جو تمہاری سفارش کرنے والا ہو سوائے خدا تعالیٰ کی ذات کے۔اس لئے اگر ہم اپنی دعاؤں اور گریہ و زاری سے خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچ لیں تو یقیناً دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی ہمارے حقوق کو تلف نہیں کر سکتی۔لیکن