تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 722
فصل هفتم حضرت مصلح موعود اگر چہ اس سال ہی ریش کے جماعت احمدیہ کو دعاؤں کی بار بار تحریک شروع ہی سے جماع کو بار بار اپنے خطبات اور ملفوظات میں دعاؤں کی طرف توجہ دلاتے آ رہے تھے مگر ماہ اگست ا ظہور کے آتے ہی حضور پہلے سے بھی زیادہ زور دعاؤں پر ہی دینے لگے۔اول چنانچه یکم ظہور / اگست یہ مہیش کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :- ۳ خدا ہی کی طرف توجہ کرو اور اس سے ڈھائیں کرو کہ اس نازک موقعہ پر تم اسلام کے لئے شرمندی کا موجب نہ ہو بلکہ تمہارے دلوں میں ایسی طاقت پیدا ہو جائے کہ موت تو کیا چیز ہے۔بڑے سے بڑے ابتلاء کو بھی تم کھیل سمجھنے لگ جاؤ تا کہ اگر ہم نے مرتا ہے تو خدا تعالے کی راہ میں ہنستے ہوئے مریں اور اس کے نام کا نعرہ بلند کرتے ہوئے مریں اور ہماری موتیں اسلام کی آئندہ تم تی کی بنیادیں نہایت مضبوطی سے گاڑ دینے والی اور اس کے جھنڈے کو دنیا میں بلند کرنے والی ہوں لے دوم - بچار روز بعد حضرت مصلح موعود کی خدمت میں ھر اگست کمر کو لاہور سے یہ اطلاع پہنچی کہ ریڈ کلف ایوارڈ کے سامنے ہند و وکیل مٹر سیتنلواد نے اس بات پر زور دیا ہے کہ گورداسپور کو ہندوستان میں شامل کیا جائے۔اس تشویشناک اطلاع پر حضرت مصلح موعود نے اس روز نماز مغرب کے فرض پڑھانے کے معاً بعد احباب کو مخاص طور پر دعا کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا :- حد بندی کمیشن کے سامنے ہندوؤں کے وکیل نے تین چار گھنٹے اس امر پر زور دیا کہ ضلع گوردہ اور کو ہندوستان میں شامل کیا جائے سکھوں کے وکیل نے بھی اپنا آدھا وقت اسی موضوع پر صرف کیا حالانکہ ہندوؤں اور سکھوں کا کوئی اقتصادی اور تمدنی مقلد اس ضلع سے وابستہ نہیں اقتصادی اور تمدنی لحاظ سے انہوں نے اپنے مفاد کو لاہور ، لائل پور ہمنشگری وغیرہ سے وابستہ بتلایا ہے۔لیکن اس کے با وجود ضلع گورداسپور کا مطالبہ کرنا بتاتا ہے کہ ان کی کوئی خاص غرض ہے۔" الفضل " د ظهور / اگست اش صفحه ۳ ؛