تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 721 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 721

کے کہ قادیان میں کوئی سکول نہیں تھا انہوں نے ان کو لاہور پڑھنے کے لئے بھجوا دیا اور ساری تعلیم انہوں نے لاہور میں ہی حاصل کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان سے بہت محبت تھی اور ان کے تمام کاموں میں آپ ڈسپی لیتے تھے۔اسی طرح حضرت میر صاحب کا بھی آپ کے تھے عاشقانه تعلق تھا۔بھائیوں میں حضرت ام المومنین کو میر محمد اسماعیل صاحب سے زیادہ محبت تھی نہایت ذہین اور ذکی تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب خطبہ الہامیہ دیا۔تو آپ نے اس ارشاد کو سُن کر کہ لوگ اسے یاد کریں انہوں نے چند دنوں میں ہی سارا خطبہ یاد کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سُنا دیا تھا۔باوجود نہایت کامیاب ڈاکٹر ہونے کے اور بہت بڑی کمائی کے قابل ہونے کے زیادہ تر پریکٹس سے بچتے تھے اور غربار کی خدمت کی طرف اپنی توجہ رکھتے تھے۔اسی وجہ سے ملازمت کے بعد کئی اچھے مواقع آپ نے کھوٹے کیونکہ گوان میں آمدن زیادہ تھی اور رتبہ بڑا تھا مگر خدمت خلق کا موقعہ کم تھا۔میری بیوی مریم صدیقہ ان کی سب سے بڑی بیٹی تھی ہو تو ام پیدا ہوئیں۔پنشن کے بعد قادیان آگئے لیکن بوجہ صحت کی خوابی کے کوئی باقاعدہ عہدہ سلسلہ کا نہیں لے سکے بلکہ جب طبیعت اچھی ہوتی الفضل میں مضامین لکھ دیا کرتے۔بہر حال میر محمد اسمعیل صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام کے صحابہ میں سے تھے اور آپ کے منظور نظر تھے۔آپ کی وفات کے بعد تمام ابتلاؤں میں سے محفوظ گزرتے ہوئے سلسلہ کی بہت سی خدمات بجا لانے کا آپ کو موقعہ ملا۔اللہ تعالے اُن کے رُوحانی مدارج کو بلند فرمائے آمین" نے اسماعیل حضرت میر محم اصیل صاحب کی تالیفات اور بیدار میامی صاحب نے مندرجہ ذیل لٹریچر بطور یادگار چھوڑا :- - تاریخ مسجد فضل لنون ۲ کرنه که ۲ مقطعات قرآنی م الحسين الطفال - تحفه احمدیت - جامع الاذکار - بخار دل حصہ اول و دوم - مذہب کی ضرورت دکھ سکھ ہے حفاظت ریش ۱- آپ بیتی - H الفضل ۳۳ ر احسان /جون الله مش ، سے منقول از کتابچه واذا الصحف نشرت صفحه ۲۳ - +1gar + ناشر میان عید تعظیم صاحب پروپرائٹر احمدیہ بکڈپو قادیان :