تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 723
اس لئے ان ایام میں دوستوں کو خاص طور پر دعائیں کرنی چاہئیں۔حد بندی کمیشن نے مورخہ ۴، ۵ و اگست کو اپنے دلائل صدر کمیشن کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔دو روز گذر چکے ہیں۔صرف از اگست کا دن باقی ہے اس دن دوست خاص طور پر دعائیں کریں۔صدر کمیشن نے اگست تک فیصلہ کرتا ہے۔اس لئے گیارہ اگست تک بھی خاص طور پر دعائیں کی جائیں۔اگر چہ صدرکیش مبران کمیشن کی آراء و دلائل سُن که از اگست تک اپنا ارادہ قائم کرلے گا لیکن دلوں پر تصرف تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے وہ بعد میں بھی تصرف کر کے صدر سے فیصلہ تبدیل کرا سکتا ہے۔اس لئے دوستوں کو گیارہ اگست تک خاص طور پر دعائیں کرنی چاہئیں کہ جو بھی فیصلہ ہو ہمارے لئے مفید ہو اور شماتت اعداد کا باعث نہ ہو۔سب دوست جو موجود ہیں اپنے اپنے محلوں میں جا کر اس کا اعلان کرا دیں“ (حضور کے حکم کی تعمیل میں اسی وقت محلوں میں دوستوں کو بھیجوا کر اعلان کرا دیا گیا ) نے سوم۔پنجاب حد بندی کمیشن کی کارروائی کے خاتمہ کے دوسرے دن ۸ راگست / ظہور کے خطبہ جمعہ میں حضور رو نے درد و سوز اور تضرع اور انتہال میں ڈوبے ہوئے الفاظ میں فرمایا :- موجودہ ایام میں ہماری جماعت ایسے سخت خطرات میں سے گزر رہی ہے کہ اگر تمہیں ان خطرات کا پوری طرح علم ہو اور اگر تمہیں پوری طرح اس کی اہمیت معلوم ہو تو شاید تم میں سے بہت سے کمزور دل لوگوں کی جان نکل جائے لیکن تم کو وہ باتیں معلوم نہیں اس لئے تم اپنی مجلسوں اور گلیوں میں ہنستے کھیلتے نظر آتے ہو۔تمہاری مثال اس بچے کی سی ہے جس کی عمر دو اڑھائی سال کی تھی اور اس کی ماں رات کے وقت مر گئی جب وہ صبح کو اُٹھا تو وہ اپنی ماں کے ساتھ چمٹ گیا۔لوگوں نے جب دروازہ کھولا تو انہوں نے دیکھا کہ بچہ اپنی ماں کے منہ پر تھپڑ مار کر ہنس رہا تھا۔وہ خیال کر رہا تھا کہ اس نما نہ بولنا مذاق کی وجہ سے ہے حالانکہ وہ مری پڑی تھی جس قسم کی حالت میں سے اور جس قسم کی بے وقوفی اور نادانی کی کیفیات میں سے وہ بچہ گذر رہا تھا اسی قسم کی حالت میں سے تم بھی گزر رہے ہو۔میں نے دو دن ہوئے جماعت کے دوستوں کو توجہ دلائی تھی اور آج پھر اسی طرف توجہ دلاتا ہوں۔آج بیسویں رمضان کی ہے اور حضرت خلیفہ "الفضل " مر ظهور اگسترش صفحه ۴ * +