تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 720 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 720

ایسا معلوم ہوا کہ میرے کانوں کے بالکل قریب ہو کر کوئی کلام کرنے لگا ہے۔نہایت فصیح اور موثر لہجہ میں کلام کا طرز ہے۔اس وقت مجھے یہی محسوس کرایا جا رہا تھا کہ یہ اللہ تعالے کی آواز ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی حلم اور رحم کے پیرایہ میں یوں کلام فرمایا :- میر محمد اسماعیل ہمارے پیارے ہیں۔ان کے علاج کی طرف فکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ہم خود ہی ان کا علاج ہیں “۔اس مبشرہ میں ایک امر تو حضرت میر صاحب کے لئے بطور بشارت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا پیارا اور محبوب قرار دیا ہے۔دوسرے حضرت میر صاحب طبقی اور ڈاکٹری علاج سے بالا اپنے لئے علاج کے خواہاں معلوم ہوتے تھے جس کے جواب میں خدا تعالے نے دوسرے علاجوں سے ان کے استغناء کا اظہار فرما کہ اس اصل علاج کا ذکر فرما دیا جس کی طبعی طور پر بلحاظ جذبات محبت و ذوق فطرت ان کو شدید خواہش تھی اور وہ علاج اللہ تعالی نے خود ہی ذکر فرما دیا کہ ہم خود ہی ان کا علاج ہیں۔گویا وہ بقول حضرت امیر خسرو سے از سر بالین من بر تميز اے ناداں طبیب در دهند عشق را دار و بجز دیدار نیست حضرت میر صاحب جیسے عاشق وجہ اللہ کا علاج اللہ تعالے کا دیدار اور وصال ہی ہو سکتا تھا کالا جو بالآخر آپ کو حسب پسند خاطر نصیب ہو گیا۔رزقنا الله ما رزقه عشقاً ووصلا » له حضرت میر صاح کے مزارکا کتبہ محنت میرا بانی اور ان کے مزارمبارک کاکتبر حضرت سید نا اتصلح الموعود نے اپنے قلم سے تحریر فرمایا جو یہ تھا میر محمد اسمعیل صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعویٰ سے پہلے پیدا ہوئے حضرت ام المؤمنین سے سولہ سال چھوٹے تھے۔حضرت ام المومنین کی پیدائش کے بعد پانچ بچھے تولد ہوئے جو سب کے سب چھوٹی عمر میں ہی فوت ہو گئے۔ان کی وفات کے بعد میر محمد اسماعیل صاحب پیدا ہوئے اور زندہ رہے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب نے جب پنشن لے کر قادیان میں رہائش اختیار کی تو بوجہ اس " الفضل" و ظہور / اگست ۳ مش صفحه ۳-۴ ه