تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 719
عیادت اور معرفت کے لحاظ سے آپ کے اندر عبد مسلم کا بہترین نمونہ پایا جاتا تھا۔اللہ تعالے کی مخلوق کی شفقت کی رُو سے آپ کے ڈاکٹری معالجات کا فن جو انواع و اقسام کے مریضوں اور بیماروں کے علاج کے طور پر شب و روز مسلسل فائدہ بخش ہوتا رہتا شفقت علی مخلق اللہ کے معنوں میں احسانات کا ایک وسیع سلسلہ تھا جس کے رو سے آپ کا عبد حسن ہونا نمایاں شان رکھتا تھا۔چنانچہ جس جس علاقہ میں بھی آپ نے اپنے اوقات کو اس طرح گزارا وہاں کے بیمار اور تیمار دار ا نکے آپکے حددرجہ مداح پائے جاتے ہیں۔اور حدیث نبوی کی رو سے علاوہ اور لوگوں کے صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خصوصیت کے ساتھ آپ کا مداح ہونا علاوہ برکات وصیت کے بیان فرمودہ علامات کے یہ بھی آپ کے جنتی ہونے کی ایک بین علامت ہے۔۔آپ قرآنی حقائق اور لطائف سے خاص طور پر لطف اندوز ہوا کرتے تھے اور مجھ سے زیادہ تر آپ کی محبت قرآن کریم کی وجہ سے ہی تھی گو آپ میرے محبوبوں میں سے ایک محبوب مہتی تھے۔لیکن خدا کا شکر ہے کہ خدا تعالیٰ کے پیارے بندوں کی نظر محبت و نگاہِ شفقت کبھی نہ کبھی مجھ جیسے غریب اور حقیر پر بھی پڑ جایا کرتی۔أُحِبُّ الصَّالِحِينَ وَلَسْتُ مِنْهُم لعَلَّ اللَّه يَرْزُقُنِي صَلَاحًا قرآنی حقائق کا فہم دقیق آپ کو عطا کیا گیا تھا۔آپ قرآنی معارف کے خواص تھے اور آپ کا فہم رسا دقائق کی گہرائیوں میں دُور تک نکل جاتا تھا۔روحانی تعلقات کے لحاظ سے بھی مجھے آپ سے ایک گہرا تعلق تھا جس کا ثبوت ذیل کے ایک واقعہ سے بھی ملتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خاکسار کو دو ہفتہ سے کچھ زائد عرصہ تک درد گردہ کا شدید دورہ رہا جس کا سلسلہ کسی قدر اب بھی پھلا بھا رہا ہے۔ہاں نسبتاً آجکل کچھ افاقہ ہی ہے اور یہ مضمون بھی بحالت علالت لکھا بھا رہا ہے۔۱۲ - ۱۳ جولائی کی درمیانی شب کو بوجہ شدید دورہ درد گردہ کے میں سو نہ سکا اور شدت درد کے باعث آنکھ نہ لگی۔اسی سلسلہ میں مجھ پر اچانک ایک ریودگی اور غنودگی کی کیفیت طاری ہوئی۔اس وقت مجھے