تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 708
441 درسگاہوں کا معائنہ و مطالعہ کیا۔امام الصلوۃ و خطیب جمعہ کی حیثیت سے کام کیا۔مجلس برائے نصاب مدرسہ احمدیہ کے رکن منتخب ہوئے۔رسالہ تفسیر القرآن کے بدستور مدیہ رہے۔خلافت ثانیہ میں رکن مجلس معتمدین و افسر مدرسہ احمدیہ ، پروفیسر اعلی، سیکرٹری بہشتی مقبره ، جنرل سکرنڈی ، ناظر تعلیم و تربیت ، سکریٹری مجلس منتظم جلسه سالانه ، ناظم جلسہ اندرون شہر ، افسر بیت المال، رکن شوری ، ۱۹۳۲ء کی انتظامیہ کمیٹی کے نمبر، افسر مساجد مرکز یہ مفتی سلسلہ، پرنسپل جامعہ احمدیہ اور پرنسپل جامعتہ الواقفین۔غرض کہ متعدد شعبوں کے انچارج کی حیثیت سے مثالی کام کیا اور ہر شعبہ کو اپنے ایثار خلوص، محنت اور دعاؤں سے نمایاں ترقی دی اور آنے والی نسلوں کے لئے خدمت دین کا ایسا فقب المثال شاندار نمونہ قائم کیا جو رہتی دنیا تک مشعل راہ کی حیثیت سے یادگار رہے گا چنانچہ حضرت امیر المومنین سیدنا المصلح الموعود نے حضرت مولانا صاحب کے وصال کے تیرے روز از احسان جون در میش کو ایک منفصل خطبہ دیا جس میں آپ کے شہری کارناموں پر نہایت شرح وبسط سے روشنی ڈالی اور فرمایا :- اس زمانہ میں ہماری جماعت میں کوئی اچھے پایہ کا فلسفی اور منطقی دماغ رکھنے والا آدمی نہ تھا ہو اللہ تعالیٰ نے مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کو ہدایت دے دی اور وہ آپ پر ایمان لے آئے اس کے بعد آپ پشاور میں پروفیسر مقرر ہوئے۔لیکن کچھ عرصہ کے بعد قادیان کی محبت نے غلبہ کیا۔اور آپ قادیان تشریف لے آئے اور دستی بیعت کی بحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی صاب سے فرمایا۔آپ نہیں رہ جائیں چنانچہ آپ نہیں رہنے لگ گئے۔بعض لوگوں نے زور دیا کہ مولوی صاحب کا لج میں پروفیسر ہیں اور اچھی جگہ کام کر رہے ہیں ان کی ملازمت سے سلسلہ کو فائدہ ہوگا اور ان کے ذریعہ تبلیغ ہوگی بچنا نچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو واپس جانے کی اعجاز دے دی۔لیکن کچھ عرصہ کے بعد مولوی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ اسلام سے اجازت لے کو واپس آگئے اور قادیان میں مستقل رہائش اختیار کر لی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مولوی صاحب کا مذ کا مباحثہ مشہور چیز ہے۔اس زمانہ میں مولوی صاحب مدرسہ احمدیہ میں پڑھایا کرتے تھے۔آپ نے کالج کی پروفیسری چھوڑ کر سکول کی مدرسی اختیار کی۔اس وقت آپ کو پندرہ میں روپیہ ماہوار تنخواہ ملتی تھی۔میں بھی اُن رتوں سکول میں پڑھتا تھا اور کچھ عرصہ میں نے بھی مولوی صاحب سے تعلیم حاصل کی ہے۔۔۔۔۔