تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 709
۶۹۳۔جب مدرسہ احمدیہ کالج کی شکل اختیار کرگیا تو آپ کو اس کا پرنسپل مقرر کیا گیا۔یہ حالت ان کی قابلیت کے معیار کے کسی حد تک مطابق تھی۔ظاہری لحاظ سے مدرسی تعلیم میں مولوی صاحب سب سے زیادہ ماہر فن تھے۔میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ درسی کتب کے بعض مشکل مقامات کے متعلق مولوی سید سرور شاہ صاحب سے فرماتے کہ آپ اس کا مطالعہ کر کے پڑھائیں مجھے اس کی مشق نہیں بچنانچہ مولوی صاحب وہ مشکل مقامات طالب علموں کو پڑھاتے۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے سیبویہ کتاب کے متعلق بھی مولوی مصلحب کو فرمایا کہ اس کے بعض مقامات مجھ پر بھل نہیں ہوئے۔اس لئے آپ یہ کتاب طالب علموں کو پڑھائیں ایسی ایک دو اور کتابوں کے متعلق بھی حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ مولوی صاحب آپ یہ طالب علموں کو پڑھا دیں۔اور جب مولوی صاحب طالب علموں کو پڑھاتے تو حضرت خلیفہ اول ہ بھی شنا کرتے فرض مولوی صاحب نے مدرسی تعلیم کو کمال تک پہنچا دیا تھا اور قدرتی طور پر ان کا دماغ بھی نسیا تھا جس مسئلہ کے متعلق دریافت کیا جاتا خواہ وہ عام مسئلہ ہی ہوتا مولوی صاحب اسے فلسفی آرنگ میں خوب کھول کر بیان کرتے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ پوچھنے والے کو ان کے بیان کردہ فلسفہ سے اتفاق ہو یا نہ ہو۔مجھے یاد نہیں کہ کبھی ان سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا ہو اور انہوں نے اس کا فلسفیا رنگ میں جواب نہ دیا ہو۔آپ صرف یہی نہیں بیان کرتے تھے کہ فلاں نے اس کے متعلق یہ لکھا ہے اور فلاں کی اس کے متعلق یہ رائے ہے بلکہ یہ بھی بتاتے تھے کہ اس مسئلہ کی بنیاد کس حکمت پرمینی ہے اور اس کے چاروں کونے خوب نمایاں کرتے تھے اور پھر اس مسئلہ کی جزئیات کی بھی تشریح کرتے۔“ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے آخری ایام میں ایک وفد باہر گیا۔اس وفد نے بعض ایسی باتیں کیں ہو حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی شان اور آپ کے درجہ کے منافی تھیں۔چنانچہ جب وہ وفد واپس آیا تو یہ سوال میں نے اُٹھایا کہ وقفہ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان کے متعلق جو بیانات باہر دیئے گئے ہیں وہ آپ کی شان کے منافی ہیں اور آپ کے درجہ میں کمی کی گئی ہے۔مولوی سید سرور شاہ صاحب بھی اس وفد میں شامل تھے جب انہوں نے