تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 707
دوسروں کی اصلاح سے مقدم ہو تی ہے۔پس آپ فوراً بیعت کا اعلان کر دیں اور استعفی کے متعلق خیال صحیح نہیں۔شریعت کا حکم ہے الاقامة فيما اقام الله- اور اگر کوئی اس کے خلاف کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے گزارہ کو خود چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو میں نے دیا تھا وہ تم نے چھوڑ دیا اب تم خود اپنے لئے کچھ کرو اور انسان ابتلاء میں پڑ جاتا ہے۔لیکن اگر خدا خود چھڑا دیتا ہے تو پھر وہ خود کفیل ہوتا اور اس کے لئے کوئی صورت نکال دیتا ہے۔پس آپ استعفیٰ مت دیں اور جب وہ نکال دیں گے تو اللہ تعالیٰ کوئی اور انتظام کر دیگا۔چنانچہ ظہر کی نماز پڑھا کر آپ صنفی طریق پر ہاتھ اُٹھا کر دعا اللهُم اَنتَ السّلامُ الخ پڑھ رہے تھے کہ کسی نے حضور کا مذکورہ خط آپ کے ہاتھ پر رکھ دیا۔پہلا لفظ یہ تھا کہ آپ فوراً بعیت کا اعلان کر دیں۔آپ نے اتنا پڑھ کر اگلا حصہ پڑھے بغیر کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دیا کہ میری بیعت کی قبولیت کا خط قادیان سے آگیا ہے اور آنچ سے نہیں احمدی ہو گیا ہوں۔اور میں یہ مجھتا ہوں کہ تم لوگوں نے میری امامت میں جتنی نمازیں پڑھی ہیں اُن میں سے زیادہ قابل قدر اور لائق قبولیت وہ ہیں جو میرے احمدی ہونے کے بعد آپ نے میرے پیچھے پڑھی ہیں لیکن اگر تعصب کی وجہ سے کسی کو نماز دوہرانے کا شوق ہو تو وہ اپنی نماز دہرا سکتا ہے۔آپ کے اعلان بیعت کے بعد ایبٹ آباد بلکہ علاقہ بھر میں شور پڑ گیا۔یہ از مارچ ششماہ سے قبل کا واقعہ ہے ایبٹ آباد میں آپ جامع مسجد کے مدرسہ میں پڑھاتے تھے اور پچیس روپے اور کھانا معاوضہ ملتا تھا۔لیکن جب آپ پشاور میں آگئے تومن کالج سے ایک سو روپیہ اور پادری ڈے سے انٹی روپے ماہوار یعنی گل ایک سو اسی روپے ملتے تھے۔اس کے بعد آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اجازت سے اپریل یا مٹی نشانہ میں مستقل طور پر قادیان ہجرت کر کے آگئے اور نہایت قلیل گذارہ پر قانع ہو کر نہایت درجه خلوص ، فدائیت کے ساتھ سلسلہ کی اہم معلمی خدمات بجالانے لگے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے خلوص میں بے انداز برکت ڈالی اور آپ کو مسلسل چھیالیس سال تک نہایت جلیل القدر اور بے شمار خدمات سرانجام دینے کی توفیق عطا ہوئی مثلاً سید نا حضرت مسیح موعود کے عہد مبارک میں آپنے مدرسہ تعلیم الاسلام میں تدریس کے فرائض انجام دیئے اور موضع گرد میں مولوی ثناء اللہ صاحب سے کامیاب مناظرہ کیا۔قائمقام نائب ناظم بہشتی مقبرہ، رسالہ تعلیم الاسلام اور رسالہ تفسیر القرآن کی ادارت میں مصروف عمل ہوئے خلافت اولیٰ میں مدرس و پر و فیسر کے فرائض کے علاوہ تبلیغ احمدیت کی۔ہندوستان کی مختلف اسلامی