تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 698 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 698

YAY جو غلط خوف کی طرف جھکا ہوا ہے اور دوسرا طبقہ ایسا ہے جو غلط امیدیں لگائے بیٹھا ہے۔حالا نکرہ مومن کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہور اسنہ تجویہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ اس پر بیک وقت خوف درجا کی حالت طاری ہے۔ایک طرف اس کے دل میں دشمن کی طرف سے یہ حدت ہے کہ کب وہ اچانک اس پر حملہ کر دیتا ہے اور وہ اس کے لئے تدبیریں سوچتا نہ ہے۔دوسری طرف وہ اپنی طرف سے تمام تدبیریں کر چکنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل کا منتظر ہو جائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مکہ سے ہجرت کی تورات کے وقت کی اور آپ دشمن کی نظروں سے بالکل چھپ کر نکلے حالانکہ آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے آپ کو دشمن کے منصوبوں سے بچانے کے بے شمار وعدے تھے اور آپ نے ان وعدوں کے ہوتے ہوئے بھی کہ اللہ تعالے مجھے ضرور دشمنوں سے محفوظ و متون رکھے گا۔حتی الامکان دشمن کی نظروں سے بچکہ نکلنے کی کوشش کیا۔یہ نہیں کہا کہ آجاؤ سکنے والو! مجھے پکڑو مگر اس کا یہ مطلب تو ہر گز نہیں ہو سکتا کہ آپ ڈرتے تھے بلکہ آپ نے صرف احتیاطی پہلو اختیار کیا تھا ورنہ آپ کی دیری کا یہ عالم تھا کہ جب آپ اپنے رفیق حضرت ابو بکر کے ساتھ غار ثور کے اند ر تھے تو دشمن میں نمار کے منہ پر پہنچ گیا اور اس کے ساتھ کھوجی بھی تھے جو پاؤں کے نشانوں کا کھوج لگاتے وہاں تک پہنچے تھے مگر اللہ تعالے کی حکمت کے ماتحت جب آپ غار کے اندر داخل ہو گئے تو ایک لکڑ جاتے غار کے منہ پر جھٹ حالا تن دیا۔دشمنوں نے یہ دیکھ کہ کہ فار کے منہ پہ تو لکڑی کا جانا ہے اس میں سے کسی آدمی کے گزرنے کا اسکان نہیں ہو سکتا یہ خیالی کہ لیا کہ آپ کسی اور طرف چلے گئے ہیں حالانکہ مکڑی دو یا چار منٹ کے اندر نہایت نیز کی کے ساتھ اپنا جالا تیار کر لیتی ہے اور میں نے خود مکڑی کو حالا تے دیکھا ہے لگہ چونکہ خدا ہے پردہ ڈالنا چاہتا تھا اس لئے دشمن کی سمجھ میں ہی یہ بات نہ آسکی اور انہوں نے کہ دیا کہ یا توده غار کے اندر میں یا آسمان پر چلے گئے ہیں کیونکہ پاؤں کے نشانات فار تک پہنچکر ختم ہو جاتے تھے اس وقت جبکہ دشمن یہ کہ رہے تھے کہ یا تو مجھ نسلی الہ علیہ آلہ ستم اور اس کا تھی غار کے اندر ہیں یا آسمان پر چلے گئے ہیں۔حضرت ابو بکر یہ اندر ان کی باتیں سن رہے تھے۔ان کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا اور آہستہ سے آپ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوشن تو سر پا پہنچا ہے۔اس واقعہ کو قرآن کریم نے بھی بیان کیا۔آپ نے فرمایا لا تحزن ان الله عنا