تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 699 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 699

ابو بکر نڈرتے کیوں ہو اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے میں ایک طرف تو آپ نے اتنی احتیاط کی کہ آپ کے مکہ سے چھپ کر نکلے اور دوسری طرف آپ کی امید کا یہ عالم تھا کہ باوجود اس کے کہ دشمن ہتھیاروں سے مسلح تھا اور اگر وہ ذرا بھی جھک کر غار کے اندر دیکھتے تو وہ آپ کو دیکھ سکتے تھے کیونکہ غار ثور کا منہ بڑھا چوڑا ہے اور دو تین گنہ کے قریب ہے۔آپ نہایت دلیری اور حوصلہ کے ساتھے فرماتے ہیں ابوبکر اور تے کیوں ہو اِنَّ الله معنا جب خدا تعالٰی ہمارے ساتھ ہے تو نہیں کس بات کا ڈر ہے۔ادھر حضرت ابو بکر نہ کے اخلاص کی یہ حالت تھی کہ انہوں نے عرض کیا کہ یار سول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم میں پنے لیے تو نہیں ڈر رہا میں تو اس لئے ڈر رہا ہوں کہ اگر آپ خدانخواستہ مارے گئے تو خدا تعالیٰ کا دین نیاہ ہو جائے گا۔نیز فرمایا ” پس آپ کو ایک طرف تو خدا تعالٰی کے وعدوں پر پورا اور کامل یقین تھا اور دوسری طرف یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ تعالٰی غنی بھی ہے۔آپ کو خوف بھی تھا مگر اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ وہ احتیاط کی طرف سے کلی طور پر پہلو تہی کرتے ہوئے صرف امیدیں لگائے بیٹے ہیں۔محمد رسول اللہ مسلے اللہ علیہ السلام تو فرماتے ہیں سوسن کو امید کی بھی اور احتیاط کی بھی سخت ضرورت ہے مگر مسلمان کہتے ہیں دیکھا جائیگا آجکل کے مسلمان دونوں حدود کے سر پہ پہنچے ہوئے ہیں حالانکہ اصل طریق جو ان کو اختیار کرنا چاہیئے ہ یہ ہے کہ خوف اور امید کی درمیانی راہ تلاش کریں اور خدا تعالے کے بنائے ہوئے راستوں اور محمد رسول اللہ لی الہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی چیزوں پر عمل کریں۔ایک طرف انہیں انتہا درجہ کی تنظیم کرنی چاہیئے ور دوسری طرف خدا تعالے پر کامل یقین رکھنا چاہیئے کہیے تمام احمدی بالغ مردوں اور عورتوں کو حضرت مصلح موعود نے سوا انسان پر جون ما با قاعدہ تہجد پڑھنے کی تحریک کے خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کو ملک کی تشویشنا کی صورت حال کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا : آجکل ہمار سے ملک پر ابتداء کے بعد ابتلا آرہا ہے ہر آنے والا معاملہ پہلے کی نسبت زیادہ سنگین اور شدید صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔اسوقت تقسیم ملک کا سوال در پیش ہے اور اس کے متعلق جس جس رنگ میں تجویزیں پیش ہو رہی ہیں۔اُن کو دیکھتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ ہمارا ملک کہیں ایسی شکل نہ اختیار کر جائے جیسا کہ ہزار پائے کے پاؤں ہوتے ہیں۔اگر خدا نخواستہ ملک کے چھوٹے چھوٹے حصے کر دئیے گئے تو کوئی صعصعہ بھی آزادی کے الفضل از احسان / جون ۱۳۵۲۹