تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 694 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 694

۵ فیصدی آبادی احمدی ہے یعنی انہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہوئی ہے اور ان کا دعوی ہے کہ وہ ہر حکم میں میری بات کر لیے۔ان حالات میں قادیان کے امن کی ذمہ داری مجھ پر ہے اور میں ایک انسان ہوں۔غیب کا علم نہیں رکھتا۔یہ ہو سکتا ہے کہ جماعت کا کوئی فرد کسی وقت استعمال میں آکر کوئی غلطی کر بیٹھے اور اگر کوئی شخص ایسا کرے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہو گا جماعت اس کے اس فعل سے بیزار ہوگی۔ہماری جماعت کی انتہائی کوشش میں ہوگی کہ قادیان میں کل طور پر امن رہے لیکن اگر کوئی شخص میری پہلا یاستے کے با وجود غلطی کرتا ہے تو یہ اس کی جزوی اور انفرادی غلطی ہو گی جماعت اس سے پوسی الذمہ ہوگی۔ہاں چونکہ میں ان کی تعلیم دیتا ہوں یہ نہیں ہوسکتا کہ جماعت کی اکثریت فساد میں سنتا ہو جائے لیکن اس کے ساتھ ہی جو باتی پندرہ فی صدی لوگ ہیں ان کا بھی فرض ہے کہ وہ ارد گرد کے لوگوں کو سمجھائیں کہ وہ فساد نہ کریں اور اگر ان تمام باتوں کے باوجود فماذا نخواستہ باہر کے لوگ کوئی فساد کھڑا کہ میں تو اس فساد کی ذمہ داری ہم پر نہیں بلکہ دوسروں پر ہوگی۔وہ شخص کسی کے منہ پر تھپڑ مارتا ہے وہ اس کا مستحق ہوتا ہے کہ اس کے منہ پر تھپڑ مارا جائے مگر ظالم کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ ایک طرت ظلم بھی کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی توقع رکھتا ہے کہ میر منہ پر تھپڑ نہ مارا جائے ہم اللہ تعالٰی سے دعا تو کرتے ہیں کہ وہ ہمیں فساد سے محفوظ رکھے لیکن اگر خدا نخواستہ فساد ہو گیا تو شرعا اور اخلاقاً جماعت احمدیہ کا حق ہو گا کہ ظالم کے منہ پر اسی طرح تھپڑ مارے جیسا کہ اس نے مارا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض مواقع پر ہم نے امن کو قائم رکھنے کے لئے بہت زیادہ نرمی اختیار کیا ہے۔احرار کی شورش کے ایام میں ہیں میں نے کہا تھا کہ اگر کوئی شخص دیکھے کہ اسکے یا پ یا بھائی کو مارا جارہا ہے تو وہ بھی چپ کر کے گزر جائے لیکن اسلامی قانون یہ تقاضا نہیں کی تا کہ ہر موقع پر تم ایک ہی طریق اختیار کرد۔نہ ہی اسلامی تمدن اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہموقع پر خاموشی اختیار کی جائے بلکہ اسلام یہ کہنا ہے کہ مناسب حال جو موقع ہو دینا کہ وہ پس میرا فرض ہے کہ میں قادیان میں امن قائم رکھوں لیکن اگر دشمن کی طرف سے حملہ ہو اور جماعت اس کا متلف الجہ کرنے کا فیصلہ کرے تو اس کا ذمہ دار دشمن ہو گا نہ جماعت احمدیہ۔اور اس فساد کی ذمہ داری اس پر ہوگی نہ کہ جماعت میں سول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں آنا بھی ا ظلم اصل قائم ہوں ہوتا ہے ہو شاد کی ابتداء کہتا ہے۔ہیں تو ہم کوشش کر رہے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے صلح اور امن